سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب في سكتتي الإمام
باب: (قرات میں) امام کے دونوں سکتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 845
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِشْكَابَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، قَالَ، قَالَ سَمُرَةُ :" حَفِظْتُ سَكْتَتَيْنِ فِي الصَّلَاةِ سَكْتَةً قَبْلَ الْقِرَاءَةِ، وَسَكْتَةً عِنْدَ الرُّكُوعِ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ، فَكَتَبُوا إِلَى الْمَدِينَةِ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، فَصَدَّقَ سَمُرَةَ".
حسن بصری کہتے ہیں کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نماز میں دو سکتے یاد کئے، ایک سکتہ قراءت سے پہلے اور ایک سکتہ رکوع کے وقت، اس پر عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے ان کا انکار کیا تو لوگوں نے مدینہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو لکھا تو انہوں نے سمرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 845]
حضرت حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو سکتے یاد ہیں۔ ایک سکتہ قراءت سے پہلے اور ایک سکتہ رکوع سے پہلے۔“ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے ان سے اتفاق نہ کیا۔ چنانچہ انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف مدینہ منورہ خط لکھا، تو حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کی تائید فرمائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 845]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 124 (782)، (تحفة الأشراف: 4609)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/11، 21، 23) (ضعیف)» (اس حدیث میں حسن بصری ہیں جن کا سماع سمرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث عقیقہ کے علاوہ کسی اور حدیث سے ثابت نہیں ہے، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: حدیث نمبر844)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 845 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث845
اردو حاشہ:
فائده:
اس تفصیل سے تین سکتے۔ (تھوڑا خاموش رہنا)
معلوم ہوتے ہیں۔
ایک سکتہ تکبیر تحریمہ کے بعد (جس میں حمد وثنا پڑھی جاتی ہے۔)
دوسراسکتہ سورۃ فاتحہ کے خاتمے پر (تاکہ امام کا سانس درست ہوجائے نیز آمین اور قراءت قرآن کے درمیان امتیاز ہوجائے۔)
تیسرا سکتہ قراءت سے فراغت کے بعد رکوع میں جانے سے قبل (اس کا مقصد بھی سانس درست کرنا ہے۔)
بعض لوگ کہتے ہیں کہ امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ امام کے ساتھ ساتھ اپنے جی میں نہ پڑھے۔
بلکہ ان سکتات میں سے کسی ایک سکتے میں پڑھ لے۔
لیکن یہ موقف اس لئے صحیح نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سکتے اس مقصد کےلئے نہیں کیے تھے۔
اس لئے یہ نہایت مختصر ہوتے تھے۔
علاوہ ازیں صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین نے بھی ان سکتوں میں سورہ فاتحہ پڑھنے کا التزام نہیں کیا۔
اس لئے صرف سکتات میں ہی سورۃ فاتحہ پڑھنے کی اجازت دینے والے موقف کی کوئی مضبوط بنیاد نہیں ہے۔
فائده:
اس تفصیل سے تین سکتے۔ (تھوڑا خاموش رہنا)
معلوم ہوتے ہیں۔
ایک سکتہ تکبیر تحریمہ کے بعد (جس میں حمد وثنا پڑھی جاتی ہے۔)
دوسراسکتہ سورۃ فاتحہ کے خاتمے پر (تاکہ امام کا سانس درست ہوجائے نیز آمین اور قراءت قرآن کے درمیان امتیاز ہوجائے۔)
تیسرا سکتہ قراءت سے فراغت کے بعد رکوع میں جانے سے قبل (اس کا مقصد بھی سانس درست کرنا ہے۔)
بعض لوگ کہتے ہیں کہ امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ امام کے ساتھ ساتھ اپنے جی میں نہ پڑھے۔
بلکہ ان سکتات میں سے کسی ایک سکتے میں پڑھ لے۔
لیکن یہ موقف اس لئے صحیح نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سکتے اس مقصد کےلئے نہیں کیے تھے۔
اس لئے یہ نہایت مختصر ہوتے تھے۔
علاوہ ازیں صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین نے بھی ان سکتوں میں سورہ فاتحہ پڑھنے کا التزام نہیں کیا۔
اس لئے صرف سکتات میں ہی سورۃ فاتحہ پڑھنے کی اجازت دینے والے موقف کی کوئی مضبوط بنیاد نہیں ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 845]
Sunan Ibn Majah Hadith 845 in Urdu
سمرة بن جندب الفزاري ← أبي بن كعب الأنصاري