سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب : ما جاء في التشهد
باب: تشہد کا بیان۔
حدیث نمبر: 901
حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَهَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا، وَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا، وَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا، فَقَالَ:" إِذَا صَلَّيْتُمْ فَكَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ، فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ: التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، سَبْعُ كَلِمَاتٍ هُنَّ تَحِيَّةُ الصَّلَاةِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، اس میں آپ نے ہمارے لیے طریقے بیان فرمائے، اور ہمیں ہماری نماز سکھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز ادا کرو اور تشہد میں بیٹھو تو بیٹھتے ہی سب سے پہلے یہ پڑھو: «التحيات الطيبات الصلوات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”آداب بندگیاں، پاکیزہ خیرات، اور نماز اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر، اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں“، یہ سات کلمے نماز کا سلام ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 901]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور ہمارے لیے ہماری سنتیں بیان فرمائیں اور ہمیں نماز کی تعلیم دی، (اسی دوران میں) فرمایا: ”جب تم نماز پڑھو اور قعدہ تک پہنچ جاؤ تو تم میں سے (ہر) کسی کو سب سے پہلے یوں کہنا چاہیے: «التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”پاکیزہ آداب اور عبادات اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں (نازل) ہوں، ہم پر بھی سلامتی ہو، اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ یہ سات جملے نماز کا تحیہ (التحیات) ہیں۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 901]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8987 ومصباح الزجاجة: 328)، وقدأخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 16 (404)، دون قولہ: ''سبع کلمات''، سنن ابی داود/الصلاة 182 (72 9، 973)، دون طرفہ الآخر، سنن النسائی/الإمامة 38 (831)، التطبیق 23 (1065)، مسند احمد (4/409)، سنن الدارمی/الصلاة 84 (1379) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح م دون قوله سبع
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
-
-
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1174
| التحيات لله الطيبات الصلوات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله |
سنن ابن ماجه |
901
| التحيات الطيبات الصلوات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله سبع كلمات هن تحية الصلاة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 901 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث901
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نماز کے افعال واذکار جس ترتیب سے بتائے گئے ہیں۔
انھیں اسی ترتیب سے پڑھنا چاہیے۔
البتہ جن مقامات پر ترتیب ضروری نہ ہونے کا قرینہ موجود ہو وہاں ترتیب ضروری نہیں۔
(2)
سات جملے اسی لئے فرمایا گیا ہے کہ۔
التحیات، الصلوات اور الطیبات، تینوں اہم مسائل ہیں، اس لئے اسے ایک جملے کی بجائے تین جملے شمار کیا گیا۔
اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دعا چوتھا جملہ اور تمام مومنین کےلئے دعا پانچواں جملہ ہے۔
شھادتین ”توحید ورسالت کی گواہی“ چھٹے اور ساتویں جملے پر مشتمل ہیں۔
واللہ اعلم
(3)
توحید پر صحیح ایمان کے لئے ضروری ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبدیت اور رسالت دونوں پر ایمان رکھا جائے۔
کفار کیطرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سے انکار کیا جائے۔
نہ انھیں اسی طرح الوہیت کے مقام پر فائز قرار دیا جائے، جس طرح نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کہہ دیا تھا۔
کہ مسیح ہی اللہ ہیں۔
جیسے کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے۔
﴿لَّقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّـهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ﴾ (لمائدة: 17)
”وہ لوگ یقیناً کافر ہوگئے۔
جنہوں نے یہ کہا اللہ ہی مسیح ابن مریم ہے۔“
فوائد و مسائل:
(1)
نماز کے افعال واذکار جس ترتیب سے بتائے گئے ہیں۔
انھیں اسی ترتیب سے پڑھنا چاہیے۔
البتہ جن مقامات پر ترتیب ضروری نہ ہونے کا قرینہ موجود ہو وہاں ترتیب ضروری نہیں۔
(2)
سات جملے اسی لئے فرمایا گیا ہے کہ۔
التحیات، الصلوات اور الطیبات، تینوں اہم مسائل ہیں، اس لئے اسے ایک جملے کی بجائے تین جملے شمار کیا گیا۔
اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دعا چوتھا جملہ اور تمام مومنین کےلئے دعا پانچواں جملہ ہے۔
شھادتین ”توحید ورسالت کی گواہی“ چھٹے اور ساتویں جملے پر مشتمل ہیں۔
واللہ اعلم
(3)
توحید پر صحیح ایمان کے لئے ضروری ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبدیت اور رسالت دونوں پر ایمان رکھا جائے۔
کفار کیطرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سے انکار کیا جائے۔
نہ انھیں اسی طرح الوہیت کے مقام پر فائز قرار دیا جائے، جس طرح نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کہہ دیا تھا۔
کہ مسیح ہی اللہ ہیں۔
جیسے کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے۔
﴿لَّقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّـهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ﴾ (لمائدة: 17)
”وہ لوگ یقیناً کافر ہوگئے۔
جنہوں نے یہ کہا اللہ ہی مسیح ابن مریم ہے۔“
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 901]
Sunan Ibn Majah Hadith 901 in Urdu
حطان بن عبد الله البصري ← عبد الله بن قيس الأشعري