🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب : التسليم
باب: سلام پھیرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 917
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ:" صَلَّى بِنَا عَلِيٌّ يَوْمَ الْجَمَلِ صَلَاةً ذَكَّرَنَا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَسِينَاهَا، وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ تَرَكْنَاهَا، فَسَلَّمَ عَلَى يَمِينِهِ وَعَلَى شِمَالِهِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں جنگ جمل کے دن ایسی نماز پڑھائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی یاد تازہ ہو گئی، جسے یا تو ہم بھول چکے تھے یا چھوڑ چکے تھے، تو انہوں نے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرا ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 917]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جنگِ جمل کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں ایسی نماز پڑھائی کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی یاد دلا دی، جسے ہم فراموش کر چکے تھے یا (کوتاہی کی وجہ سے) چھوڑ بیٹھے تھے۔ (اس نماز میں) انہوں نے دائیں طرف اور بائیں طرف سلام پھیرا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 917]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8982، ومصباح الزجاجة: 335) (منکر)» ‏‏‏‏ (یہ حدیث ابوبکر بن عیاش اور ابو اسحاق کی وجہ سے منکر ہے، لیکن یہ ٹکڑا «فسلم على يمينه وعلى شماله» صحیح ہے، کیونکہ اس سے پہلے والی صحیح حدیثوں سے ثابت ہے، صحیح ابن خزیمہ)
وضاحت: ۱؎: جنگ جمل: جمادی الآخرہ ۳۶ ھ میں علی رضی اللہ عنہ اور عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلین کے قصاص کا مطالبہ کرنے والوں کے درمیان یہ جنگ بصرہ میں واقع ہوئی۔ ۲؎: اہل حدیث کے نزدیک نماز سے باہر آنے کے لئے سلام پھیرنا واجب ہے، اور دوسری حدیث میں ہے کہ نماز کی تحلیل (یعنی اس کے ختم کرنے اور اس سے باہر جانے کا راستہ) سلام ہے، اب صحیح اور مشہور یہی ہے کہ دائیں اور بائیں طرف دو سلام کرے، ابن القیم نے کہا کہ پندرہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے دو سلام نقل کئے ہیں، ان میں سے ابن مسعود، سعد، جابر، ابوموسی، عمار بن یاسر، عبداللہ بن عمر، براء، وائل، ابو مالک، عدی، طلق، اوس اور ابورمثہ رضی اللہ عنہم ہیں، ان میں سے بعض روایتیں صحیح ہیں، بعض حسن ہیں، ان کی مخالف پانچ حدیثیں ہیں، جن میں ایک سلام مذکور ہے، اور ان کی صحت میں اختلاف ہے، ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں «وبرکاتہ» کا لفظ زیادہ ہے جس کو ابوداود نے وائل بن حجر کی روایت سے نقل کیا ہے، اور امام مالک رحمہ اللہ کا قول یہی ہے کہ ایک ہی سلام کرنا کافی ہے سلام کے سلسلے میں مختلف روایات ثابت ہیں، اس لئے سب صورتیں صحیح ہیں، اور ثابت شدہ تمام احادیث پر عمل کرنا مشروع و مسنون ہے، ہاں جس کیفیت پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب زیادہ رہا کرتے تھے اس کو زیادہ کرنا اولیٰ ہے، نیز ان کیفیات کے لئے، (ملاحظہ ہو: صفۃ صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم للألبانی، ص۱۸۷، ۱۸۸)۔
قال الشيخ الألباني: منكر وأما السلام يمينا ويسارا فصحيح بما قبله
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 411

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسىصحابي
👤←👥بريد بن أبي مريم السلولي
Newبريد بن أبي مريم السلولي ← عبد الله بن قيس الأشعري
ثقة
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← بريد بن أبي مريم السلولي
ثقة مكثر
👤←👥أبو بكر بن عياش الأسدي، أبو بكر
Newأبو بكر بن عياش الأسدي ← أبو إسحاق السبيعي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الله بن عامر الحضرمي، أبو محمد، أبو عامر
Newعبد الله بن عامر الحضرمي ← أبو بكر بن عياش الأسدي
ثقة
Sunan Ibn Majah Hadith 917 in Urdu