سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. باب : من صلى وبينه وبين القبلة شيء
باب: نمازی اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز حائل ہو تو نماز جائز ہے۔
حدیث نمبر: 957
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّهَا ، قَالَتْ:" كَانَ فِرَاشُهَا بِحِيَالِ مَسْجَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کا بستر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سجدہ گاہ کے بالمقابل ہوتا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 957]
حضرت زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی والدہ (ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ ”ان (ام المومنین رضی اللہ عنہا) کا بستر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدہ کے مقام کے برابر ہوتا تھا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 957]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 45 (4148)، (تحفة الأشراف: 18278)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/322) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 957 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث957
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نماز پڑھتے وقت اگر نمازی کی بیوی قریب لیٹی ہوئی ہو تو کوئی حرج نہیں۔
اس صورت میں یہ شبہ نہیں کرنا چاہیے کہ نماز کے دوران میں اس کی طرف توجہ ہونے کا اندیشہ ہے اگر واقعی اس قسم کی صورت حال پیش آ جائے کہ نماز کی طرف کما حقہ توجہ نہ رہ سکے تو اجتناب کرسکتا ہے ورنہ جواز میں کوئی شبہ نہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
نماز پڑھتے وقت اگر نمازی کی بیوی قریب لیٹی ہوئی ہو تو کوئی حرج نہیں۔
اس صورت میں یہ شبہ نہیں کرنا چاہیے کہ نماز کے دوران میں اس کی طرف توجہ ہونے کا اندیشہ ہے اگر واقعی اس قسم کی صورت حال پیش آ جائے کہ نماز کی طرف کما حقہ توجہ نہ رہ سکے تو اجتناب کرسکتا ہے ورنہ جواز میں کوئی شبہ نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 957]
Sunan Ibn Majah Hadith 957 in Urdu
زينب بنت أم سلمة المخزومية ← أم سلمة زوج النبي