🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن الشافعی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (648)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
78. (بَابُ النَّهْيِ عَنِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ عِنْدَ قَضَاءِ الْحَاجَةِ)
(دورانِ حاجت قبلہ رخ ہونے کی ممانعت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 113
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ: إِذَا قَعَدْتَ عَلَى حَاجَتِكَ فَلا تَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلا بَيْتَ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَقَدِ ارْتَقَيْتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لَنَا فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلا بَيْتَ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِهِ، وَقَالَ:" لَعَلَّكَ مِنَ الَّذِينَ يُصَلُّونَ عَلَى أَوْرَاكِهِمْ؟" قُلْتُ: لا أَدْرِي وَاللَّهِ، يَعْنِي الَّذِي يَسْجُدُ وَلا يَرْتَفِعُ عَنِ الأَرْضِ يَسْجُدُ وَهُوَ لاصِقٌ بِالأَرْضِ. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ , قَالَ: سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَلَيْسَ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ مُخَالِفًا عِنْدَنَا حَدِيثَ أَبِي أَيُّوبَ، فَيُكْرَهُ لِلَّذِي فِي الصَّحْرَاءِ اسْتِقْبَالُ الْقِبْلَةِ وَاسْتِدْبَارُهَا ؛ لأَنَّهُ لا مُؤْنَةَ عَلَيْهِ فِي تَرْكِ الاسْتِقْبَالِ وَالاسْتِدْبَارِ وَلا مِرْفَقَ لَهُ فِيهِمَا وَإِذَا بُنِيَتِ الْكُنُفُ فِي الْمَنَازِلِ تَوَضَّأَ فِيهَا كَمَا أَمْكَنَهُ لِلْمِرْفَقِ وَقَدْ كَتَبْتُ هَذَا بِتَفْسِيرِهِ فِي غَيْرِ هَذَا الْمَوْضِعِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، بے شک لوگ کہتے ہیں قضائے حاجت کے وقت قبلہ یا بیت المقدس کی طرف منہ نہ کرو اور عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو اینٹوں پر بیٹھے (قضائے حاجت کرتے) دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ بیت المقدس کی طرف تھا (یعنی پیٹھ بیت اللہ کی طرف تھی)۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے شاگرد واسع رحمہ اللہ کو کہا: شاید تو ان لوگوں میں سے ہے جو اپنے چوتڑوں پر نماز پڑھتے ہیں؟ واسع رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے کہا کہ میں نہیں جانتا اللہ کی قسم کہ آپ کی کیا مراد ہے؟ (امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے وہ شخص مراد لیا جو نماز میں زمین سے بلند نہیں ہوتا اور سجدہ میں زمین سے چمٹ جائے جو کہ غلط اور خلاف سنت عمل ہے)۔ ابو جعفر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے مزنی رحمہ اللہ سے سنا وہ فرما رہے تھے۔ کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما والی حدیث اور حدیث ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ میں تضاد نہیں ہے کھلی فضا میں استقبال استدبار مکروہ ہے کیونکہ اس حدیث پر صحرا میں عمل کرنے میں کوئی مشقت نہیں لہذا کوئی نرمی نہیں اور گھروں میں لیٹرینوں میں جیسے ممکن ہو سکے گا عمل کرے گا امام صاحب رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے اس حدیث کو وضاحت کے ساتھ کسی دوسری جگہ بیان کیا ہے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في الصلاة على الراحلة/حدیث: 113]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الوضوء، باب من تبرز علی لبنتین، رقم: 145، صحیح مسلم،الطهارة، باب الاستطابة، رقم: 266.»


Sunan Shafi Hadith 113 in Urdu