السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
85. (بَابُ تَنْبِيهِ الْإِمَامِ فِي الصَّلَاةِ)
(دوران نماز امام کو متوجہ کرنا)
حدیث نمبر: 130
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، فَحَانَتِ الصَّلاةُ فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: أَتُصَلِّي لِلنَّاسِ فَأُقِيمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فِي الصَّلاةِ فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِّ، فَصَفَّقَ النَّاسُ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لا يَلْتَفِتُ فِي صَلاتِهِ، فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفِّ وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" مَا مَنَعَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ؟" قَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا كَانَ لابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لِيَ رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمُ التَّصْفِيقَ! مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلاتِهِ فَلْيُسَبِّحْ فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ فَإِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ".
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی عمرو بن عوف کے ہاں صلح کرانے گئے اور نماز کا وقت ہو گیا تو مؤذن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا میں اقامت کہوں آپ نماز پڑھائیں گے؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھانا شروع کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے لوگ نماز میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی صف میں کھڑے ہو گئے لوگوں نے تالیاں بجائیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں دائیں بائیں نہ جھانکا کرتے تھے تو جب لوگوں نے زیادہ تالیاں بجانا شروع کیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے التفات کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ پڑھاتے رہو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہاتھ اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اللہ کی حمد کی، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے آئے حتی کہ صف میں آکر کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے نماز پڑھائی جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے ابوبکر! تجھے کس نے نماز پڑھانے سے روکا حالانکہ میں نے (اشارہ سے) کہا تھا پڑھاتے رہو۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ابن ابی قحافہ کے لیے روا نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں امام بن جائے پھر لوگوں سے فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا تالیاں ہی بجانے لگے جس کو نماز میں کوئی حاجت پیش آئے سبحان اللہ کہے جب وہ سبحان اللہ کہے گا امام متوجہ ہو جائے گا تالیاں عورتوں کے لیے ہیں۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في الصلاة على الراحلة/حدیث: 130]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الاذان، باب من دخل ليؤم الناس فجاء الامام الاول، رقم: 684، صحیح مسلم، الصلاة، باب تقديم الجماعة من يصل بهم، رقم: 421»
Sunan Shafi Hadith 130 in Urdu