السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
131. (بَابُ النَّهْيِ عَنْ مُبَادَلَةِ التَّمْرِ وَالرِّبَا)
(کھجوروں کے تبادلے اور سود سے ممانعت)
حدیث نمبر: 205
عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ، فَقَالَ: أَيَّتُهُمَا أَفْضَلُ؟ فَقَالُوا: الْبَيْضَاءُ فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنْ شِرَاءِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيَنْقُصُ إِذَا يَبِسَ؟" فَقَالُوا: نَعَمْ، فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ.
ابو عیاش یزید رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے بیضاء نامی غلے کو سلت نامی غلے سے فروخت کرنے کے بارے سوال کیا تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”ان دونوں میں سے عمدہ غلہ کون سا ہے؟“ شاگردوں نے عرض کیا: ”بیضاء“ تو انہوں نے منع کر دیا اور فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ سے سوال کیا گیا کہ کیا خشک کھجور تازی کھجور کے عوض خریدیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا رطب خشک ہو کر وزن میں کم ہو جائے گی؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”جی ہاں“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بیع سے منع کر دیا۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في البيوع/حدیث: 205]
تخریج الحدیث: «سنن ابی داؤد،البيوع، باب في التمر بالتمر، رقم: 3359 وقال الالباني: صحيح، سنن ترمذی، البيوع، باب ماجاء في النهي عن المحاقلة والمزانبة، رقم: 1225 وقال: حسن صحيح.»
Sunan Shafi Hadith 205 in Urdu