السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
359. (بَابُ عُقُوبَةِ الزِّنَا وَالْحُكْمِ الشَّرْعِيِّ فِيهِ)
(زنا کی سزا اور شرعی فیصلہ)
حدیث نمبر: 526
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَقَالَ الآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُهُمَا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَائْذَنْ لِي فِي أَنْ أَتَكَلَّمَ، فَقَالَ:" تَكَلَّمْ"، فَقَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأُخْبِرْتُ أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَجَارِيَةٍ لِي، ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ، وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ: أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ إِلَيْكَ وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا، وَأَمَرَ أُنَيْسًا الأَسْلَمِيَّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الآخَرِ فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا. قَالَ مَالِكٌ: الْعَسِيفُ: الأَجِيرُ.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے اپنا کیس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا ایک نے کہا ہمارے درمیان کتاب اللہ کے ذریعہ فیصلہ فرمائیں اور دوسرا جو زیادہ سمجھدار تھا کہنے لگا کیوں نہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم ہمارے درمیان کتاب اللہ سے فیصلہ کریں اور مجھے بولنے کی اجازت دیں اور کہنے لگا کہ میرا بیٹا اس کے ہاں مزدور تھا اس کی بیوی سے زنا کر بیٹھا ہے مجھے خبر دی گئی کہ میرے بیٹے پر رجم ہے تو میں نے فدیہ کے طور پر سو بکریاں اور ایک لونڈی اداء کر دی ہے پھر میں نے اہل علم سے مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑوں کی سزا اور ایک سال کی جلا وطنی ہے جبکہ رجم اس کی بیوی پر ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں ضرور تمہارے درمیان اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ کروں گا، جو بکریاں اور لونڈی ہے وہ تجھے واپس ہوں گی، اور تیرے بیٹے کو سو کوڑے اور ایک سال جلا وطنی کی سزا سنائی جاتی ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس اسلمی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس کی بیوی کے پاس جا اگر اعتراف جرم کرتی ہے تو اسے رجم کر دینا۔ اس عورت نے اعتراف جرم کیا تو اسے رجم کر دیا گیا امام مالک رحمہ اللہ نے کہا: ”العسيف“ مزدور کو کہتے ہیں۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب الحدود/حدیث: 526]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، المحاربین من اھل الکفر، باب اذا رمی امراتہ أو امرأة غیرہ بالزنا، رقم: 6842، صحیح مسلم، الحدود، باب من اعترف علی نفسہ بالزنی، رقم: 1698»
Sunan Shafi Hadith 526 in Urdu