🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
83. باب : تزيين القرآن بالصوت
باب: خوش الحانی سے قرآن پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1017
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنِي طَلْحَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ" قَالَ ابْنُ عَوْسَجَةَ كُنْتُ نَسِيتُ هَذِهِ زَيِّنُوا الْقُرْآنَ حَتَّى ذَكَّرَنِيهِ الضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِمٍ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم قرآن کو اپنی آواز سے مزین کرو۔ عبدالرحمٰن بن عوسجہ کہتے ہیں: میں اس جملے «زينوا القرآن» کو بھول گیا تھا یہاں تک کہ مجھے ضحاک بن مزاحم نے یاد دلایا۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1017]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید کو پرسوز آواز سے پڑھا کرو۔ راویٔ حدیث ابن عوسجہ بیان کرتے ہیں کہ یہ الفاظ «زَيِّنُوا الْقُرْآنَ» میں بھول گیا تھا حتیٰ کہ (میرے ساتھی) ضحاک بن مزاحم نے مجھے یاد دلائے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1017]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥البراء بن عازب الأنصاري، أبو عمارة، أبو الطفيل، أبو عمروصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن عوسجة الهمداني
Newعبد الرحمن بن عوسجة الهمداني ← البراء بن عازب الأنصاري
ثقة
👤←👥طلحة بن مصرف الإيامي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newطلحة بن مصرف الإيامي ← عبد الرحمن بن عوسجة الهمداني
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← طلحة بن مصرف الإيامي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥عمرو بن علي الفلاس، أبو حفص
Newعمرو بن علي الفلاس ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1016
زينوا القرآن بأصواتكم
سنن النسائى الصغرى
1017
زينوا القرآن بأصواتكم
سنن أبي داود
1468
زينوا القرآن بأصواتكم
سنن ابن ماجه
1342
زينوا القرآن بأصواتكم
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1017 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1017
1017۔ اردو حاشیہ: قرآن مجید کو توجہ، تصحیح اور حضور قلب سے پڑھنا کہ قاری اور سامعین پر اس کا مثبت اثر ہو، شریعت کا مطلوب ہے، البتہ گانے کا انداز نہ ہو، یعنی ساز کی بجائے سوز ہو۔ پڑھنے اور سننے والے پر خشیت الٰہی طاری ہو۔ دونوں کو رونا آئے نہ کہ طرب کی کیفیت پیدا ہو اور واہ واہ کے نعرے بلند ہوں۔ ریاکاری اور تحسین کے لیے پڑھنا موجب عذاب ہے۔ أعاذنا اللہ منه۔ اگر خوبصورت کلام کو پرسوز اور اچھی آواز سے پڑھا جائے تو یہ چیز کلام کے حسن کو مزید چار چاند لگا دیتی ہے جیسا کہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کریم کو اپنی آوازوں کے ساتھ خوبصورت بناؤ، اس لیے کہ خوبصورت آواز قرآن کے حسن میں اضافہ کرتی ہے۔ [سلسلة الأحادیث الصحیحة: 401/2، حدیث: 771]
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1017]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1468
قرآت میں ترتیل کے مستحب ہونے کا بیان۔
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کو اپنی آواز سے زینت دو ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1468]
1468. اردو حاشیہ: عمدہ آواز اور مشروع لحن سے قرآن پڑھنے میں لذت آتی ہے۔ اور سننے میں دل لگتا ہے۔ اور اس کے برعکس اگر آواز بھدی اور لحن اور غیر مشروع ہو تو طبیعت میں گرانی محسوس ہوتی ہے۔ علامہ منذری اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں۔ کہ اس میں مقلوب ترکیب (علم بیان کی ایک صفت کا نام ہے۔ کہ جس کی عبارت الٹی سیدھی جس طرح بھی پڑھی جائے مفہوم وہی رہے۔) استعمال ہوئی ہے۔ اور اصل یہ ہے کہ اپنی آواز کو قرآن سے زینت دو۔ یعنی اس کی قراءت کو اپنا معمول وشعار بنا لو۔ اس مفہوم میں وہ ایک روایت بھی لائے ہیں۔ (تفصیل کےلئے دیکھئے عون المعبود)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1468]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1342
قرآن مجید کو اچھی آواز سے پڑھنے کا بیان۔
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کو اپنی آوازوں سے زینت دو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1342]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
قرآن مجید کو اچھی آواز کے ساتھ تلاوت کرنا چاہیے۔

(2)
قرآن کی اچھے طریقے سے تلاوت کا مطلب یہ ہے کہ حروف کوصحیح مخارج سے ادا کیا جائے۔
اعراب اور مد وغیرہ کی غلطی سے اجتناب کیاجائے۔
معنی اور مفہوم کو پیش نظر رکھ کر متناسب زیرو بم سے تلاوت کی جائے۔
موسیقی کو اصولوں کو قرآن پر لاگو کرنے کی کوشش کرنا درست نہیں۔
نہ آوازکے ساتھ قرآن کو مزین کرنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ تلاوت قرآن میں ساز وموسیقی کے اصول استعمال کیے جایئں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1342]

Sunan an-Nasa'i Hadith 1017 in Urdu