🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

83. بَابُ: تَزْيِينِ الْقُرْآنِ بِالصَّوْتِ
باب: خوش الحانی سے قرآن پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1016
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کو اپنی آوازوں سے زینت بخشو۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1016]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید کو اپنی آوازوں سے زینت دو۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1016]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 355 (1468)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 176 (1342)، (تحفة الأشراف: 1775)، مسند احمد 4/283، 285، 296، 304، سنن الدارمی/فضائل القرآن 34 (3543) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1017
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنِي طَلْحَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ" قَالَ ابْنُ عَوْسَجَةَ كُنْتُ نَسِيتُ هَذِهِ زَيِّنُوا الْقُرْآنَ حَتَّى ذَكَّرَنِيهِ الضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِمٍ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم قرآن کو اپنی آواز سے مزین کرو۔ عبدالرحمٰن بن عوسجہ کہتے ہیں: میں اس جملے «زينوا القرآن» کو بھول گیا تھا یہاں تک کہ مجھے ضحاک بن مزاحم نے یاد دلایا۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1017]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید کو پرسوز آواز سے پڑھا کرو۔ راویٔ حدیث ابن عوسجہ بیان کرتے ہیں کہ یہ الفاظ «زَيِّنُوا الْقُرْآنَ» میں بھول گیا تھا حتیٰ کہ (میرے ساتھی) ضحاک بن مزاحم نے مجھے یاد دلائے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1017]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1018
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ الْمَكِّيُّ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ حَسَنِ الصَّوْتِ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ يَجْهَرُ بِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اللہ تعالیٰ کوئی چیز اتنی پسندیدگی سے نہیں سنتا جتنی خوش الحان نبی کی زبان سے قرآن سنتا ہے، جو اسے خوش الحانی کے ساتھ بلند آواز سے پڑھتا ہو۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1018]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی آواز کی طرف اتنی توجہ نہیں دی (غور سے نہیں سنا) جس قدر خوب صورت آواز والے نبی کی طرف توجہ دی جو بلند (اور پرسوز) آواز سے قرآن پڑھتا ہے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1018]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/فضائل القرآن 19 (5023)، التوحید 32 (7482)، 52 (7544)، صحیح مسلم/المسافرین 34 (792)، سنن ابی داود/الصلاة 355 (1473)، (تحفة الأشراف: 14997)، مسند احمد 2/271، 285، 450، سنن الدارمی/فضائل القرآن 34 (3533، 3540 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1019
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا أَذِنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِشَيْءٍ يَعْنِي أَذَنَهُ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نبی کے خوش الحانی سے قرآن پڑھنے کو اللہ تعالیٰ جس طرح سنتا ہے اس طرح کسی اور چیز کو نہیں سنتا۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1019]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کی طرف اتنی توجہ نہیں دی جس قدر اس نبی کی طرف توجہ فرماتا ہے جو پرسوز آواز سے قرآن پڑھتا ہے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1019]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/فضائل القرآن 19 (5024)، صحیح مسلم/المسافرین 34 (792)، (تحفة الأشراف: 15144) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1020
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ قِرَاءَةَ أَبِي مُوسَى فَقَالَ:" لَقَدْ أُوتِيَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی قرأت سنی تو فرمایا: انہیں آل داود کے لحن (سُر) میں سے ایک لحن عطا کیا گیا ہے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1020]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی قراءت سنی تو فرمایا: اسے تو داود علیہ السلام کی بانسریوں میں سے ایک بانسری دی گئی ہے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1020]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15231)، مسند احمد 2/369، 450 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1021
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةَ أَبِي مُوسَى فَقَالَ:" لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی قرأت سنی تو فرمایا: یقیناً انہیں آل داود کے لحن (سُر) میں سے ایک لحن عطا کیا گیا ہے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1021]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی قراءت سنی تو فرمایا: بلاشبہ اسے تو حضرت داود علیہ السلام کی بانسریوں میں سے ایک بانسری دی گئی ہے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1021]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16456)، مسند احمد 6/37، 167، سنن الدارمی/الصلاة 171 (1530) (صحیح الإسناد) (وھو عندخ وم من حدیث أبي موسیٰ وبریدة)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1022
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةَ أَبِي مُوسَى فَقَالَ:" لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی قرأت سنی تو فرمایا: انہیں داود کے لحن (سُر) میں سے ایک لحن عطا کیا گیا ہے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1022]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی قراءت سنی تو فرمایا: بلاشبہ اسے حضرت داود علیہ السلام کی بانسریوں میں سے ایک بانسری دی گئی ہے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1022]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16672)، مسند احمد 6/167 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1023
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَاتِهِ، قَالَتْ:" مَا لَكُمْ وَصَلَاتَهُ، ثُمَّ نَعَتَتْ قِرَاءَتَهُ فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا".
یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت اور نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: تم کہاں اور آپ کی نماز کہاں! پھر انہوں نے آپ کی قرأت بیان کی جس کا ایک ایک حرف بالکل واضح تھا۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1023]
حضرت یعلی بن مملک رحمہ اللہ نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت اور نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: تمہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے کیا سروکار؟ (اس پر عمل کرنا بہت مشکل ہے)۔ پھر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کی نقل فرمائی (اسے بیان کیا) تو وہ ایسی قراءت تھی جس کا ایک ایک حرف الگ الگ تھا (ہر آیت اور جملے پر وقف ہوتا تھا)۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1023]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 355 (1466) مطولاً، سنن الترمذی/فضائل القرآن 23 (2923) مطولاً، (تحفة الأشراف: 18226)، مسند احمد 6/294، 297، 300، 308، وأعادہ المؤلف برقم: 1630 (صحیح) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے ورنہ اس کے راوی ’’یعلی‘‘ لین الحدیث ہیں، دیکھئے إرواء رقم: 343)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں