🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. باب : السلام على النبي صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر سلام بھیجنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1283
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ الْوَرَّاقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ. ح وأَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ يُبَلِّغُونِي مِنْ أُمَّتِي السَّلَامَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو زمین میں گھومتے رہتے ہیں، وہ مجھ تک میرے امتیوں کا سلام پہنچاتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1283]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تحقیق اللہ تعالیٰ نے کچھ فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو زمین میں ہر وقت چلتے پھرتے رہتے ہیں، وہ مجھے میری امت کی طرف سے سلام پہنچاتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1283]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، حم1/387، 441، 452، سنن الدارمی/الرقاق 58 (2816)، (تحفة الأشراف: 9204)، والمؤلف فی عمل الیوم واللیلة 29 (رقم 66) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥زاذان الكندي، أبو عبد الله، أبو عمر
Newزاذان الكندي ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥عبد الله بن السائب الكندي
Newعبد الله بن السائب الكندي ← زاذان الكندي
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← عبد الله بن السائب الكندي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← سفيان الثوري
ثقة حافظ
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة حافظ إمام
👤←👥محمود بن غيلان العدوي، أبو أحمد
Newمحمود بن غيلان العدوي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← محمود بن غيلان العدوي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥معاذ بن معاذ العنبري، أبو المثنى، أبو هانئ
Newمعاذ بن معاذ العنبري ← سفيان الثوري
ثقة متقن
👤←👥عبد الوهاب بن عبد الحكم النسائي، أبو الحسن
Newعبد الوهاب بن عبد الحكم النسائي ← معاذ بن معاذ العنبري
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1283 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1283
1283۔ اردو حاشیہ:
➊ نماز میں آپ پر سلام پڑھنا فرض ہے، آگے پیچھے بھی آپ پر سلام پڑھنا ایک بہت بڑی فضیلت ہے اور یہی مرتبہ آپ پر صلاۃ (درود) کا ہے کیونکہ یہ قرآنی حکم ہے: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا» [الأحزاب: 56: 33] صلی اللہ علیه وسلم۔
➋ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کے علاوہ اکیلا سلام پڑھنا بھی درست ہے، یعنی اگر کوئی شخص صلی اللہ علیہ یا علیہ السلام اکیلا اکیلا کہہ دے تو جائز ہے۔
➌ اس حدیث مبارکہ میں نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے سلام پڑھنے کی ترغیب ہے۔
➍ اس حدیث مبارکہ سے نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بلند مرتبہ اور عزت و عظمت واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی ڈیوٹی لگا رکھی ہے کہ جو آپ پر سلام پڑھے، فرشتے اس کا سلام آپ تک پہنچائیں۔
➎ اس شخص کی فضیلت بھی اس سے ثابت ہوتی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام پڑھتا ہے اور اس کا سلام نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچایا جاتا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس اس کا جواب دیتے ہیں جیسا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بھی مجھے سلام کہتا ہے، اللہ مجھ پر میری روح لوٹا دیتا ہے اور میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔ [سنن أبي داود، المناسك، حدیث: 2041] یہ حدیث حسن درجے کی ہے۔ روح لوٹانے کی کئی ایک تاویلات کی گئی ہیں مگر اول و آخر یہی ہے کہ یہ عالم برزخ کا معاملہ ہے، اسے دنیا کی زندگی پر قیاس کرنا درست نہیں، علاوہ ازیں یہ متشابہات میں سے ہے۔ ہم کوئی اطمینان بخش تفصیل و توجیہ کرنے سے قاصر ہیں۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1283]

Sunan an-Nasa'i Hadith 1283 in Urdu