🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
70. باب : كيف السلام على اليمين
باب: داہنی طرف سلام پھیرنے کی کیفیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1321
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ: ابْنُ جُرَيْجٍ: أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ , أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ كُلَّمَا وَضَعَ , اللَّهُ أَكْبَرُ كُلَّمَا رَفَعَ، ثُمَّ يَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ عَنْ يَمِينِهِ , السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ عَنْ يَسَارِهِ".
واسع بن حبان سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب جھکتے تو «اللہ أكبر» کہتے، اور جب اٹھتے تو «اللہ أكبر» کہتے، پھر آپ اپنی دائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ» کہتے اور اپنی بائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ» کہتے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1321]
حضرت واسع بن حبان نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: آپ جب جھکتے تھے تو «اللَّهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہتے تھے اور جب سر اٹھاتے تھے، تب بھی «اللَّهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہتے تھے۔ پھر (نماز کے اختتام پر) دائیں طرف منہ کرکے کہتے: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور بائیں طرف منہ کرکے کہتے: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1321]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8553)، مسند احمد 2/72، 152 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥واسع بن حبان الأنصاري
Newواسع بن حبان الأنصاري ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥محمد بن يحيى الأنصاري، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الأنصاري ← واسع بن حبان الأنصاري
ثقة
👤←👥عمرو بن يحيى الأنصاري
Newعمرو بن يحيى الأنصاري ← محمد بن يحيى الأنصاري
ثقة
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← عمرو بن يحيى الأنصاري
ثقة
👤←👥الحجاج بن محمد المصيصي، أبو محمد
Newالحجاج بن محمد المصيصي ← ابن جريج المكي
ثقة ثبت
👤←👥الحسن بن محمد الزعفراني، أبو علي
Newالحسن بن محمد الزعفراني ← الحجاج بن محمد المصيصي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1321 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1321
1321۔ اردو حاشیہ: شریعت اسلامیہ نے جس طرح نماز کا آغاز اللَّهُ أَكْبَرُ جیسے با رعب جملے سے کیا تھا جو کہ نمازی کو لوگوں سے منقطع کرنے اور اللہ تعالیٰ سے جوڑنے پر دلالت کرتا ہے اس طرح، اس کے مقابلے میں نماز کا اختتام «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» جیسے پرلطف جملے سے کیا جو نمازی کا تعلق پھر سے لوگوں کے ساتھ بطریق احسن جوڑ دیتا ہے۔ یہ نماز کے اختتام کا اعلان بھی ہے اور لوگوں کے ساتھ کلام کا آغاز بھی اور وہ بھی بہترین انداز میں، یعنی دعائیہ کلمات کے ساتھ۔ چونکہ نماز میں ادھر ادھر دیکھنا منع ہے، لہٰذا نماز کے اختتام پر سلام پھیرنا مشروع ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1321]

Sunan an-Nasa'i Hadith 1321 in Urdu