سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
78. بَابُ : الاِنْحِرَافِ بَعْدَ التَّسْلِيمِ
باب: سلام پھیرنے کے بعد قبلہ سے پلٹ کر نمازیوں کی طرف رخ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1335
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ:" صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَلَمَّا صَلَّى انْحَرَفَ".
یزید بن اسود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھی، جب نماز پڑھ چکے تو آپ نے اپنا رخ پلٹ کر مقتدیوں کی طرف کر لیا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1335]
حضرت یزید بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی، جب آپ نماز پڑھ چکے تو آپ نے اپنا رخ (قبلے سے) موڑ لیا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1335]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 72 (614)، سنن الترمذی/الصلاة 49 (219) مطولاً، مسند احمد 4/161، (تحفة الأشراف: 11823) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥يزيد بن الأسود السوائي، أبو الأسود، أبو عمرو | صحابي | |
👤←👥جابر بن يزيد السوائي جابر بن يزيد السوائي ← يزيد بن الأسود السوائي | ثقة | |
👤←👥يعلى بن عطاء العامري يعلى بن عطاء العامري ← جابر بن يزيد السوائي | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← يعلى بن عطاء العامري | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← سفيان الثوري | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥يعقوب بن إبراهيم العبدي، أبو يوسف يعقوب بن إبراهيم العبدي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1335
| صلى مع رسول الله صلاة الصبح فلما صلى انحرف |
سنن أبي داود |
614
| إذا انصرف انحرف |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1335 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1335
1335۔ اردو حاشیہ:
➊ قبلے سے رخ موڑنا شاید اس لیے ہے کہ دور سے دیکھنے والے کو بھی نماز کے ختم ہونے کا علم ہو جائے۔ ویسے بھی امام کا مقتدیوں کی طرف بیٹھنا نماز کی حد تک تو مجبوری تھی، نماز کے بعد مناسب ہے کہ وہ لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھے جیسے سردار لوگوں کے ساتھ بیٹھتا ہے، اس لیے امام کو اپنا رخ قبلے کی طرف سے بدل لینا چاہیے۔ پھر چاہے تو بالکل مقتدیوں کی طرف منہ کر کے بیٹھے، خصوصاً ً اگر کوئی خطاب کرنا ہو اور چاہے تو دائیں یا بائیں منہ کر کے بیٹھ جائے۔ دائیں کو ترجیح دینا مستحسن ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً دائیں جانب کو ترجیح دیتے تھے۔
➋ اس حدیث کے معنیٰ یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ جب آپ نماز پڑھ چکے تو اٹھ کر گھر چلے گئے مگر نماز کے بعد دیر تک ذکر اذکار آپ کا معمول تھا، خصوصاً صبح کی نماز کے بعد۔ احادیث میں اس کی فضیلت بھی وارد ہے۔ ہو سکتا ہے کوئی کام ہو، اس لیے فوراًً چلے گئے لیکن یہ معنیٰ مراد لینے بعید ہیں کیونکہ یہ حجۃ الوداع کے موقع پر مسجد خیف کی بات ہے جیسا کہ حدیث: 859 میں گزر چکا ہے۔ اور مسند احمد کے الفاظ ہیں: «ثُم انحرَفَ جالسًا» ”پھر آپ بیٹھے بیٹھے مڑے۔“ [مسند أحمد: 4/161] لہٰذا پہلی بات ہی زیادہ درست معلوم ہوتی ہے۔ تاہم ضرورت کے پیش نظر امام فوراًً اٹھ کر بھی جا سکتا ہے۔ واللہ أعلم۔
➊ قبلے سے رخ موڑنا شاید اس لیے ہے کہ دور سے دیکھنے والے کو بھی نماز کے ختم ہونے کا علم ہو جائے۔ ویسے بھی امام کا مقتدیوں کی طرف بیٹھنا نماز کی حد تک تو مجبوری تھی، نماز کے بعد مناسب ہے کہ وہ لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھے جیسے سردار لوگوں کے ساتھ بیٹھتا ہے، اس لیے امام کو اپنا رخ قبلے کی طرف سے بدل لینا چاہیے۔ پھر چاہے تو بالکل مقتدیوں کی طرف منہ کر کے بیٹھے، خصوصاً ً اگر کوئی خطاب کرنا ہو اور چاہے تو دائیں یا بائیں منہ کر کے بیٹھ جائے۔ دائیں کو ترجیح دینا مستحسن ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً دائیں جانب کو ترجیح دیتے تھے۔
➋ اس حدیث کے معنیٰ یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ جب آپ نماز پڑھ چکے تو اٹھ کر گھر چلے گئے مگر نماز کے بعد دیر تک ذکر اذکار آپ کا معمول تھا، خصوصاً صبح کی نماز کے بعد۔ احادیث میں اس کی فضیلت بھی وارد ہے۔ ہو سکتا ہے کوئی کام ہو، اس لیے فوراًً چلے گئے لیکن یہ معنیٰ مراد لینے بعید ہیں کیونکہ یہ حجۃ الوداع کے موقع پر مسجد خیف کی بات ہے جیسا کہ حدیث: 859 میں گزر چکا ہے۔ اور مسند احمد کے الفاظ ہیں: «ثُم انحرَفَ جالسًا» ”پھر آپ بیٹھے بیٹھے مڑے۔“ [مسند أحمد: 4/161] لہٰذا پہلی بات ہی زیادہ درست معلوم ہوتی ہے۔ تاہم ضرورت کے پیش نظر امام فوراًً اٹھ کر بھی جا سکتا ہے۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1335]
Sunan an-Nasa'i Hadith 1335 in Urdu
جابر بن يزيد السوائي ← يزيد بن الأسود السوائي