🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب : الصلاة بمكة
باب: مکہ میں نماز قصر کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1444
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى فِي حَدِيثِهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قال: سَمِعْتُ مُوسَى وَهُوَ ابْنُ سَلَمَةَ، قال: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: كَيْفَ أُصَلِّي بِمَكَّةَ إِذَا لَمْ أُصَلِّ فِي جَمَاعَةٍ؟ قَالَ:" رَكْعَتَيْنِ سُنَّةَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ میں مکہ میں کس طرح نماز پڑھوں کہ جب میں جماعت سے نہ پڑھوں؟ تو انہوں نے کہا: دو رکعت پڑھو، ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت (پر عمل کرو)۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1444]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 1 (688)، مسند احمد 1/216، 226، 290، 337، 369، (تحفة الأشراف: 6504) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥موسى بن سلمة الهذلي
Newموسى بن سلمة الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← موسى بن سلمة الهذلي
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥خالد بن الحارث الهجيمي، أبو عثمان
Newخالد بن الحارث الهجيمي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن عبد الأعلى القيسي، أبو صدقة، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد الأعلى القيسي ← خالد بن الحارث الهجيمي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1444 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1444
1444۔ اردو حاشیہ: مطلب یہ ہے کہ مسافر اگر باجماعت نماز پڑھے تو ظاہر ہے امام کے مطابق ہی پڑھے گا۔ امام حرم چونکہ مقیم ہوتے ہیں، لہٰذا وہ چار رکعتیں ہی پڑھیں گے لیکن اگر جماعت چھوٹ جائے تو مسافر دو رکعت پڑھے گا، بشرطیکہ وہ مدت اقامت سے کم ٹھہرا ہو۔ اگر اسے مدت اقامت سے زائد ٹھہرنا ہے تو وہ نماز پوری پڑھے گا۔ اس حکم میں مکہ اور غیر مکہ کا کوئی فرق نہیں۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1444]