🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب : نوع آخر
باب: سورج گرہن کی نماز کے ایک اور طریقہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1479
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ صَاحِبُ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال:" كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى جَعَلُوا يَخِرُّونَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ نَحْوًا مِنْ ذَلِكَ، وَجَعَلَ يَتَقَدَّمُ ثُمَّ جَعَلَ يَتَأَخَّرُ، فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ , كَانُوا يَقُولُونَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ إِلَّا لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنْ عُظَمَائِهِمْ , وَإِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُرِيكُمُوهُمَا , فَإِذَا انْخَسَفَتْ فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک انتہائی گرم دن میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی، اور لمبا قیام کیا یہاں تک کہ لوگ (بیہوش ہو ہو کر) گرنے لگے، پھر آپ نے لمبا رکوع کیا، پھر آپ رکوع سے اٹھے تو آپ نے لمبا قیام کیا، پھر آپ نے لمبا رکوع کیا، پھر آپ رکوع سے اٹھے تو لمبا قیام کیا، پھر دو سجدے کیے، پھر آپ کھڑے ہوئے تو آپ نے پھر اسی طرح کیا، نیز آپ آگے بڑھے پھر پیچھے ہٹنے لگے، تو یہ چار رکوع اور چار سجدے ہوئے، لوگ کہتے تھے کہ سورج اور چاند گرہن ان کے بڑے آدمیوں میں سے کسی بڑے آدمی کی موت کی وجہ سے لگتا ہے، حالانکہ یہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جنہیں اللہ تمہیں دکھاتا ہے، تو جب گرہن لگے تو نماز پڑھو جب تک کہ وہ چھٹ نہ جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1479]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک سخت گرم دن میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو نماز کسوف پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت لمبا قیام فرمایا حتیٰ کہ لوگ گرنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع فرمایا اور لمبا رکوع فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا تو لمبا قیام فرمایا، پھر رکوع فرمایا اور لمبا رکوع فرمایا، پھر سر اٹھایا تو کافی دیر کھڑے رہے، پھر دو سجدے کیے، پھر کھڑے ہوئے اور دوسری رکعت بھی اسی طرح پڑھی۔ (قیام کے دوران میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھتے تھے، پھر پیچھے ہٹتے تھے۔ تو اس طرح یہ چار رکوع اور چار سجدے ہوئے۔ لوگ کہا کرتے تھے کہ سورج اور چاند کو کسی عظیم سردار کی وفات پر ہی گرہن لگتا ہے۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ تمہیں دکھاتا ہے، تو جب ان میں سے کسی کو گرہن لگ جائے تو نماز پڑھو حتیٰ کہ وہ روشن ہو جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1479]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الکسوف 3 (904)، سنن ابی داود/الصلاة 262 (1179)، (تحفة الأشراف: 2976)، مسند احمد 3/374، 382 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر
Newهشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← محمد بن مسلم القرشي
ثقة ثبت وقد رمي بالقدر
👤←👥عبيد الله بن عبد المجيد الحنفي، أبو علي
Newعبيد الله بن عبد المجيد الحنفي ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي
ثقة
👤←👥سليمان بن سيف الطائي، أبو داود
Newسليمان بن سيف الطائي ← عبيد الله بن عبد المجيد الحنفي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1479
الشمس والقمر لا يخسفان إلا لموت عظيم من عظمائهم
صحيح مسلم
2102
الشمس والقمر آيتان من آيات الله إنهما لا ينكسفان لموت أحد
سنن أبي داود
1178
الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا ينكسفان لموت بشر
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1479 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1479
1479۔ اردو حاشیہ: فوائد کے لیے دیکھیے روایت: 1473۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1479]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1178
نماز کسوف میں چار رکوع کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا، یہ اسی دن کا واقعہ ہے جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کی وفات ہوئی، لوگ کہنے لگے کہ آپ کے صاحبزادے ابراہیم کی وفات کی وجہ سے سورج گرہن لگا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کو نماز (کسوف) پڑھائی، چار سجدوں میں چھ رکوع کیا ۱؎، اللہ اکبر کہا، پھر قرآت کی اور دیر تک قرآت کرتے رہے، پھر اتنی ہی دیر تک رکوع کیا جتنی دیر تک قیام کیا تھا، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور پہلی قرآت کی بہ نسبت مختصر قرآت کی پھر اتنی ہی دیر تک رکوع کیا جتنی دیر تک قیام کیا تھا، پھر رکوع سے سر اٹھایا پھر تیسری قرآت کی جو دوسری قرآت کے بہ نسبت مختصر تھی اور اتنی دیر تک رکوع کیا جتنی دیر تک قیام کیا تھا، پھر رکوع سے سر اٹھایا، اس کے بعد سجدے کے لیے جھکے اور دو سجدے کئے، پھر کھڑے ہوئے اور سجدے سے پہلے تین رکوع کیے، ہر رکوع اپنے بعد والے سے زیادہ لمبا ہوتا تھا، البتہ رکوع قیام کے برابر ہوتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں پیچھے ہٹے تو صفیں بھی آپ کے ساتھ پیچھے ہٹیں، پھر آپ آگے بڑھے اور اپنی جگہ چلے گئے تو صفیں بھی آگے بڑھ گئیں پھر آپ نماز سے فارغ ہوئے تو سورج (صاف ہو کر) نکل چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، کسی انسان کے مرنے کی وجہ سے ان میں گرہن نہیں لگتا، لہٰذا جب تم اس میں سے کچھ دیکھو تو نماز میں مشغول ہو جاؤ، یہاں تک کہ وہ صاف ہو کر روشن ہو جائے، اور راوی نے بقیہ حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1178]
1178۔ اردو حاشیہ:
➊ اس حدیث کا باب سے تعلق واضح نہیں ہے۔ الا یہ کہ نماز کسوف میں ہر پہلا قیام اور رکوع لمبا اور دوسرا اس سے کم ہونا چاہیے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے مصلے سے آگے بڑھناجنت کے مشاہدے کی بنا پر تھا اور پیچھے ہٹنا جہنم کے دکھائے جانے کے باعث تھا۔
➌ شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک اس میں بھی چھ رکوع کے الفاظ شاذ ہیں۔ محفوظ الفاظ چار رکوع ہیں جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1178]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2102
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں، جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوئے، سورج گرہن ہو گیا، بعض لوگوں نے کہا: سورج کو گہن تو بس حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موت کی بنا پر لگ گیا ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کو چھ رکوعوں، چار سجدوں کے ساتھ (دو رکعت) نماز پڑھائی۔ تکبیر تحریمہ سے آغاز کیا پھر قراءت کی اور طویل قراءت کی، پھر قیام کے... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:2102]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
اضت الشمس:
سورج پہلی کیفیت کی طرف لوٹ آیا۔
(2)
لفح:
لپٹ لو،
یا لو اور تپش۔
(3)
محجن:
ایک طرف سے مڑی ہوئی لاٹھی۔
فوائد ومسائل:
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس روایت سے ثابت ہوتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی موت کے دن والے سورج گہن کے لیے نماز میں ہر رکعت میں تین رکوع کیے تھے اور یہ واقعہ 27جنوری 632ء بمطابق 29 شوال 10 ہجری بروز سوموارپیش آیا اور چونکہ فتح مکہ کے بعد لوگ جوق درجوق مسلمان ہو رہے تھے اس لیے یہاں بھی آپ نے وہی باتیں دہرائیں جو پہلے بتا چکے تھے اور آپ کو یہاں بھی جنت اور دوزخ کا نظارہ تقریباً اسی طرح کرایا گیا ہاں پہلے حدیث میں صاحب محجن کا واقعہ نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2102]

Sunan an-Nasa'i Hadith 1479 in Urdu