🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب : نوع آخر
باب: سورج گرہن کی نماز کے ایک اور طریقہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1477
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ هُوَ الْأَنْصَارِيُّ، قال: سَمِعْتُ عَمْرَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: جَاءَتْنِي يَهُودِيَّةٌ تَسْأَلُنِي , فَقَالَتْ: أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُعَذَّبُ النَّاسُ فِي الْقُبُورِ؟ فَقَالَ:" عَائِذًا بِاللَّهِ" , فَرَكِبَ مَرْكَبًا يَعْنِي وَانْخَسَفَتِ الشَّمْسُ فَكُنْتُ بَيْنَ الْحُجَرِ مَعَ نِسْوَةٍ،" فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَرْكَبِهِ فَأَتَى مُصَلَّاهُ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ , ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ , ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ قَامَ قِيَامًا أَيْسَرَ مِنْ قِيَامِهِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ أَيْسَرَ مِنْ رُكُوعِهِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ أَيْسَرَ مِنْ قِيَامِهِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ أَيْسَرَ مِنْ رُكُوعِهِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ أَيْسَرَ مِنْ قِيَامِهِ الْأَوَّلِ، فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ:" إِنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ" , قَالَتْ عَائِشَةُ: فَسَمِعْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک یہودی عورت مجھ سے کچھ پوچھنے آئی تو اس نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں قبر کے عذاب سے بچائے، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا لوگ قبروں میں بھی عذاب دیئے جاتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اللہ کی پناہ، پھر آپ (کہیں جانے کے لیے) سواری پر سوار ہوئے کہ ادھر سورج گرہن لگ گیا، اور میں دوسری عورتوں کے ساتھ حجروں کے درمیان بیٹھی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اتر کر آئے، اور اپنے مصلیٰ کی طرف بڑھے، آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی تو لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، پھر آپ نے سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا، پھر آپ (سجدہ سے کھڑے ہوئے) اور آپ نے قیام کیا، مگر اپنے پہلے قیام سے کم، پھر رکوع کیا، اپنے پہلے رکوع سے کم، پھر اپنا سر اٹھایا تو قیام کیا اپنے پہلے قیام سے کم، تو یہ چار رکوع اور چار سجدے ہوئے، اور سورج صاف ہو گیا، تو آپ نے فرمایا: تم قبروں میں آزمائے جاؤ گے اسی طرح جس طرح دجال کے فتنے سے آزمائے جاؤ گے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس کے بعد سے میں نے برابر آپ کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنا۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1477]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت میرے پاس کچھ مانگنے آئی، وہ کہنے لگی: اللہ تعالیٰ تجھے عذابِ قبر سے بچائے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا لوگوں کو قبروں میں عذاب دیا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر سوار ہو کر کہیں گئے۔ ادھر سورج کو گرہن لگ گیا۔ میں دوسری عورتوں کے ساتھ حجروں کے درمیان کھڑی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے اتر کر تشریف لائے، اپنی نماز کی جگہ میں پہنچے، پھر لوگوں کو نماز پڑھانا شروع کی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا اور بہت لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور دیر تک کھڑے رہے، پھر سجدہ کیا اور لمبا سجدہ کیا، پھر (دوسرے سجدے کے بعد) کھڑے ہوئے اور پہلے قیام سے ہلکا قیام کیا، پھر پہلے رکوع سے ہلکا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور پہلے قیام سے ہلکا قیام کیا، پھر اپنے پہلے رکوع سے ہلکا رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور پہلے سے کچھ کم دیر کھڑے رہے، اس طرح چار رکوع اور چار سجدے ہوئے۔ ادھر سورج بھی روشن ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (خطبہ کے دوران میں) فرمایا: تمہیں قبروں میں فتنۂ دجال کی طرح آزمایا جائے گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اس کے بعد میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عذابِ قبر سے پناہ مانگتے سنا۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1477]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية
Newعمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد الأنصاري ← عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية
ثقة ثبت
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← يحيى بن سعيد الأنصاري
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥عمرو بن علي الفلاس، أبو حفص
Newعمرو بن علي الفلاس ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6366
يعذبون عذابا تسمعه البهائم كلها ما رأيته بعد في صلاة إلا تعوذ من عذاب القبر
صحيح مسلم
2098
تفتنون في القبور كفتنة الدجال
صحيح مسلم
1321
يعذبون عذابا تسمعه البهائم ما رأيته بعد في صلاة إلا سمعته يتعوذ من عذاب القبر
صحيح مسلم
1319
يستعيذ من عذاب القبر
سنن النسائى الصغرى
1476
يفتنون في قبورهم كفتنة الدجال
سنن النسائى الصغرى
1309
عذاب القبر حق يصلي صلاة بعد إلا تعوذ من عذاب القبر
سنن النسائى الصغرى
1500
يفتنون في قبورهم كفتنة الدجال
سنن النسائى الصغرى
5506
تفتنون في قبوركم
سنن النسائى الصغرى
1477
تفتنون في القبور كفتنة الدجال
سنن النسائى الصغرى
2066
أوحي إلي أنكم تفتنون في القبور يستعيذ من عذاب القبر
سنن النسائى الصغرى
2067
يستعيذ من عذاب القبر من فتنة الدجال تفتنون في قبوركم
سنن النسائى الصغرى
2068
يعذبون في قبورهم عذابا تسمعه البهائم
سنن النسائى الصغرى
2069
يعذبون عذابا تسمعه البهائم كلها ما رأيته صلى صلاة إلا تعوذ من عذاب القبر
صحيح البخاري
1372
ان يهودية دخلت عليها فذكرت عذاب القبر
مشكوة المصابيح
128
ان يهودية دخلت عليها فذكرت عذاب القبر فقالت لها اعاذك الله من عذاب القبر
Sunan an-Nasa'i Hadith 1477 in Urdu