سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب : نوع آخر
باب: سورج گرہن کی نماز کے ایک اور طریقہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1488
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ الْهِلَالِيِّ ," أَنَّ الشَّمْسَ انْخَسَفَتْ فَصَلَّى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى انْجَلَتْ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَكِنَّهُمَا خَلْقَانِ مِنْ خَلْقِهِ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ فِي خَلْقِهِ مَا شَاءَ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا تَجَلَّى لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ يَخْشَعُ لَهُ، فَأَيُّهُمَا حَدَثَ فَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ أَوْ يُحْدِثَ اللَّهُ أَمْرًا".
قبیصہ الہلالی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سورج گرہن لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دو رکعتیں پڑھیں یہاں تک کہ وہ صاف ہو گیا، پھر آپ نے فرمایا: ”سورج اور چاند کو کسی کے مرنے سے گرہن نہیں لگتا، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے دو مخلوق ہیں، اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں جو چاہتا ہے نئی بات پیدا کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ جب اپنی مخلوق میں سے کسی پر تجلی فرماتا ہے تو وہ اس کے لیے جھک جاتی ہے، لہٰذا جب ان دونوں میں سے کوئی رونما ہو تو تم نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ چھٹ جائے، یا اللہ تعالیٰ کوئی نیا معاملہ ظاہر فرما دے“۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1488]
حضرت قبیصہ ہلالی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ سورج گہنا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں حتیٰ کہ سورج روشن ہو گیا، پھر آپ نے فرمایا: ”بلاشبہ سورج اور چاند کسی کی موت کی بنا پر نہیں گہناتے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے دو مخلوق ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں جو چاہے تبدیلی لاتا ہے اور اللہ تعالیٰ جب اپنی کسی مخلوق پر تجلی فرماتا ہے تو وہ فوراً اس کی اطاعت کرتی ہے، تو جب ان دونوں میں سے کسی میں کوئی تبدیلی واقع ہو (سورج یا چاند کو گرہن لگے) تو نماز پڑھو حتیٰ کہ وہ روشن ہو جائے یا اللہ تعالیٰ کوئی اور امر صادر فرما دے۔“ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1488]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (1487) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 332
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1487
| الشمس والقمر آيتان من آيات الله إنهما لا ينكسفان لموت أحد |
سنن النسائى الصغرى |
1488
| الشمس والقمر لا ينخسفان لموت أحد لكنهما خلقان من خلقه الله يحدث في خلقه ما شاء الله إذا تجلى لشيء من خلقه يخشع له أيهما حدث فصلوا حتى ينجلي أو يحدث الله أمرا |
سنن أبي داود |
1185
| هذه الآيات يخوف الله بها إذا رأيتموها فصلوا كأحدث صلاة صليتموها من المكتوبة |
Sunan an-Nasa'i Hadith 1488 in Urdu
عبد الله بن زيد الجرمي ← قبيصة بن المخارق الهلالي