🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. باب : ذبح الإمام يوم العيد وعدد ما يذبح
باب: عید الاضحی کے دن امام کے ذبح کرنے کا اور ذبیحوں کی تعداد کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1590
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَذْبَحُ أَوْ يَنْحَرُ بِالْمُصَلَّى.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ ہی میں ذبح یا نحر کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1590]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ میں قربانی کیا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1590]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العیدین 22 (982)، الأضاحي 6 (5552)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي 17 (3161)، (تحفة الأشراف: 8261)، مسند احمد 2/108، ویأتی عند المؤلف برقم: 4371 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥كثير بن فرقد المدني
Newكثير بن فرقد المدني ← نافع مولى ابن عمر
ثقة
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← كثير بن فرقد المدني
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥شعيب بن الليث الفهمي، أبو عبد الملك
Newشعيب بن الليث الفهمي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الله البالسي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد الله البالسي ← شعيب بن الليث الفهمي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1590 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1590
1590۔ اردو حاشیہ: لوگوں کے سامنے یا عیدگاہ میں قربانی ذبح کرنے کا مقصد لوگوں کو قربانی پر ابھارنا ہے۔ قول کے بعد عملاً بھی، لہٰذا یہ مستحب ہے مگر لازم نہیں۔ اسی طرح دو جانور ذبح کرنا بھی ضروری نہیں، ایک بھی کافی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جانور اپنی اور اپنے آل کی طرف سے اور ایک اپنی امت کی طرف سے ذبح فرمایا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم، الاضاحی، حدیث: 1967) امت کی طرف سے قربانی کی بابت بعض علماء یوں فرماتے ہیں کہ وہ آپ کا خاصہ ہے جس میں امت کے لیے آپ کی اقتدا جائز نہیں۔ دیکھیے: (ارواءالغلیل: 4؍354) امام پر قربانی تبھی ہے اگر وہ قربانی کی طاقت رکھتا ہو۔ امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک ایسے امام کے پیچھے نماز عید نہیں پڑھنی چاہیے جو قربانی نہیں کر سکتا یا نہیں کرتا مگر جمہور اہل علم اس کے قائل نہیں کیونکہ امامت کے لیے تقویٰ اور علم اور شرط ہیں، نہ کہ مالدار ہونا۔ بہرصورت امام قربانی کرنے والا ہو اور علانیہ لوگوں کے سامنے قربانی کرے تو اچھی بات ہے۔ واللہ اعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1590]

Sunan an-Nasa'i Hadith 1590 in Urdu