🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب : ذكر صلاة نبي الله موسى عليه السلام وذكر الاختلاف على سليمان التيمي فيه
باب: اللہ کے نبی موسیٰ علیہ السلام کی نماز کا بیان اور سلیمان التیمی سے اس حدیث کی روایت میں راویوں کے اختلاف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1638
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي مَرَرْتُ عَلَى مُوسَى وَهُوَ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ".
سلیمان انس رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معراج کی رات میں میں موسیٰ کے پاس سے گزرا اور وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1638]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥اسم مبهم0
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر
Newأنس بن مالك الأنصاري ← اسم مبهم
صحابي
👤←👥سليمان بن طرخان التيمي، أبو المعتمر
Newسليمان بن طرخان التيمي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥محمد بن إبراهيم السلمي، أبو عمرو
Newمحمد بن إبراهيم السلمي ← سليمان بن طرخان التيمي
ثقة
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← محمد بن إبراهيم السلمي
ثقة ثبت
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1638 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1638
1638۔ اردو حاشیہ: امام نسائی رحمہ اللہ نے ایک ہی روایت کو مختلف لفظوں سے بیان کیا ہے۔ دراصل ان کا مقصود حضرت انس رضی اللہ عنہ کے شاگرد سلیمان تیمی (جن پر اس روایت کا مدار ہے) کے شاگردوں کا اختلاف واضح کرتا ہے کہ کسی نے یہ روایت مرفوع متصل اور کسی نے مرسل بیان کی ہے۔ کسی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کسی اور صحابی کا واسطہ بیان کیا ہے لیکن اس میں اختلاف کی وجہ سے روایت کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ مندرجہ بلا صورتوں میں سے کوئی صورت بھی عیب والی نہیں۔ مزید مذکورہ باب کے تحت مندرج وضاحت ملاحظہ فرمائی جائے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1638]

Sunan an-Nasa'i Hadith 1638 in Urdu