🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. باب : كيف صلاة القاعد
باب: بیٹھ کر نماز پڑھنے کی کیفیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1662
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ حَفْصٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مُتَرَبِّعًا" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرَ أَبِي دَاوُدَ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَا أَحْسِبُ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا خَطَأً وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پالتی مار کر بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ ابوداؤد حفری کے علاوہ کسی اور نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے، اور ابوداؤد ثقہ ہیں اس کے باوجود میں اس حدیث کو غلط ہی سمجھتا ہوں، واللہ اعلم ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1662]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16206)، انظر صحیح ابن خزیمة 978 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: علم حدیث کے قواعد کے مطابق اس کے صحیح ہونے میں کوئی چیز مانع نہیں، امام ابن خزیمہ نے بھی اسے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، حفص بن غياث مدلس وعنعن،وشيخه هو حميد بن قيس. وحديث البخاري (827) يخالفه ولو صح لكان محمولاً على العذر. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 334

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عبد الله بن شقيق العقيلي، أبو محمد، أبو عبد الرحمن، أبو عامر
Newعبد الله بن شقيق العقيلي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فيه نصب
👤←👥حميد بن أبي حميد الطويل، أبو عبيدة
Newحميد بن أبي حميد الطويل ← عبد الله بن شقيق العقيلي
ثقة مدلس
👤←👥حفص بن غياث النخعي، أبو عمر
Newحفص بن غياث النخعي ← حميد بن أبي حميد الطويل
ثقة
👤←👥عمر بن سعد الحفري، أبو داود
Newعمر بن سعد الحفري ← حفص بن غياث النخعي
ثقة
👤←👥هارون بن عبد الله البزاز، أبو موسى
Newهارون بن عبد الله البزاز ← عمر بن سعد الحفري
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1662 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1662
1662۔ اردو حاشیہ:
➊ امام نسائی رحمہ اللہ نے مذکورہ حدیث کو ابوداود حفری کی غلطی قرار دیا ہے لیکن ثقہ راوی کو صرف گمان کی بنیاد پر خطاکار قرار نہیں دیا جا سکتا جیسا کہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے۔ یہ حدیث ان کے نزدیک صحیح ہے، نیز حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی امام نسائی رحمہ اللہ کے کلام کو محل نظر سمجھا ہے اور اسے بوداود حفری کی خطا نہیں کہا:۔ غرض یہ حدیث صحیح ہے اور عذر پر محمول ہو گی جیسا کہ محقق کتاب نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے کہ اگر اسے صحیح سمجھا جائے تو یہ عذر پر محمول ہو گی۔ واللہ اعلم۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: (اصل صفۃ صلاۃ النبی: 1؍102 وذخیرۃ العقبٰی شرح سنن النسائی: 18؍5۔ 7)
➋ کس طرح بیٹھ کر نماز پڑھی جائے؟ اس مسئلے میں اختلاف ہے، اگرچہ جواز میں کوئی اختلاف نہیں کہ جس طرح چاہے بیٹھ جائے مگر افضیلت کے بارے میں اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام احمد رحمہ اللہ علیہم اور ایک قول کے مطابق امام شافعی رحمہ اللہ بھی چارزانو بیٹھ کر نماز پڑھنے کو افضل سمجھتے ہیں کیونکہ اس میں سہولت ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا دوسرا قول یہ ہے کہ جس طرح دو سجدوں کے درمیان بیٹھا جاتا ہے اسی طرح بیٹھا جائے کیونکہ نماز میں اس طرح بیٹھنا قطعاً صحیح ہے اور تواتر سے منقول ہے۔ بعض سے تورک بھی منقول ہے۔ مزید دیکھیے: (اصل صفۃ صلاۃ النبی للالبانی: 1؍107)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1662]