🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. باب : القراءة في الوتر
باب: وتر میں قرأت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1729
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، أَنَّ أَبَا مُوسَى كَانَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَصَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَةً أَوْتَرَ بِهَا , فَقَرَأَ فِيهَا بِمِائَةِ آيَةٍ مِنَ النِّسَاءِ، ثُمّ قَالَ: مَا أَلَوْتُ أَنْ أَضَعَ قَدَمَيَّ حَيْثُ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَمَيْهِ وَأَنَا أَقْرَأُ بِمَا قَرَأَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابومجلز سے روایت ہے کہ ابوموسیٰ اشعری مکہ اور مدینے کے درمیان تھے، کہ انہوں نے عشاء کی نماز دو رکعت پڑھی، پھر وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ایک رکعت وتر پڑھی، اس میں انہوں نے سورۃ نساء کی سو آیتیں پڑھیں، پھر کہا: میں نے اپنے دونوں قدموں کو اس جگہ رکھنے میں جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھے تھے، اور ان آیتوں کے پڑھنے میں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی تھی کوئی کوتاہی نہیں کی۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1729]
حضرت ابومجلز رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ (سفر کے دوران میں) مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے تو انہوں نے عشاء کی نماز دو رکعت پڑھی، پھر کھڑے ہوئے اور ایک رکعت وتر پڑھا اور اس میں سورۃ النساء کی سو آیات پڑھیں، پھر فرمایا کہ میں نے اس بات میں ذرہ بھر کوتاہی نہیں کی کہ وہاں پاؤں رکھوں جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قدم مبارک رکھے اور وہی کچھ پڑھوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1729]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9033)، مسند احمد 4/419 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، فى سماع أبى مجلز من أبى موسي رضي اللّٰه عنه نظر،كما قال الحافظ ابن حجر العسقلاني (انظر نتائج الأفكار فى تخريج أحاديث الأذكار 1/ 263 مجلس 53) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 334

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسىصحابي
👤←👥لاحق بن حميد السدوسي، أبو مجلز
Newلاحق بن حميد السدوسي ← عبد الله بن قيس الأشعري
ثقة
👤←👥عاصم الأحول، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعاصم الأحول ← لاحق بن حميد السدوسي
ثقة
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← عاصم الأحول
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥محمد بن الفضل السدوسي، أبو النعمان
Newمحمد بن الفضل السدوسي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة ثبت تغير في آخر عمره
👤←👥إبراهيم بن يعقوب السعدي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن يعقوب السعدي ← محمد بن الفضل السدوسي
ثقة حافظ
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1729 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1729
1729۔ اردو حاشیہ: مذکورہ روایت کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ محققین کی تفصیلی بحث سے تصحیح حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔ واللہ اعلم۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (ذخیرۃ العقبٰی شرح سنن النسائی: 18؍98۔ 100)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1729]

Sunan an-Nasa'i Hadith 1729 in Urdu