یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
78. باب : فضل من صلى عليه مائة
باب: جس کی سو لوگوں نے نماز جنازہ پڑھی ہو اس کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1993
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سَلَّامِ بْنِ أَبِي مُطِيعٍ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيعِ عَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنْ مَيِّتٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَبْلُغُونَ أَنْ يَكُونُوا مِائَةً يَشْفَعُونَ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ" , قَالَ سَلَّامٌ: فَحَدَّثْتُ بِهِ شُعَيْبَ بْنَ الْحَبْحَابِ , فَقَالَ: حَدَّثَنِي بِهِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس میت پر بھی مسلمانوں کی ایک جماعت نماز جنازہ پڑھے (جن کی تعداد) سو تک پہنچتی ہو، (اور) وہ (اللہ کے پاس) شفاعت (سفارش) کریں تو اس کے حق میں (ان کی) شفاعت قبول کی جائے گی“۔ سلام کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کو شعیب بن حبحاب سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے اسے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے، وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1993]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس میت پر مسلمانوں کی ایک جماعت جنازہ پڑھے جو سو تک پہنچتے ہوں اور وہ اس کی (بخشش) کی سفارش کریں تو لازماً اس میت کے حق میں ان کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔“ راویٔ حدیث سلام بن ابو مطیع بیان کرتے ہیں کہ میں نے یہ روایت حضرت شعیب بن حبحاب کو بیان کی تو وہ کہنے لگے: مجھے یہی روایت حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1993]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 18 (947)، سنن الترمذی/الجنائز 40 (1029)، (تحفة الأشراف: 918، 16291)، مسند احمد 3/266، 6/32، 40، 97، 231 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1993 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1993
1993۔ اردو حاشیہ:
➊ گویا یہ روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہے اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی۔
➋ ”سفارش قبول کی جاتی ہے“ بشرطیکہ وہ انسان قابل مغفرت ہو۔ یہ قید ہر ایسی روایت میں ملحوظ رہنی چاہیے
➊ گویا یہ روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہے اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی۔
➋ ”سفارش قبول کی جاتی ہے“ بشرطیکہ وہ انسان قابل مغفرت ہو۔ یہ قید ہر ایسی روایت میں ملحوظ رہنی چاہیے
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1993]
Sunan an-Nasa'i Hadith 1993 in Urdu
شعيب بن الحبحاب الأزدي ← أنس بن مالك الأنصاري