🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
78. باب : فضل من صلى عليه مائة
باب: جس کی سو لوگوں نے نماز جنازہ پڑھی ہو اس کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1995
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ أَبُو الْخَطَّابِ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو بَكَّارٍ الْحَكَمُ بْنُ فَرُّوخَ، قال: صَلَّى بِنَا أَبُو الْمَلِيحِ عَلَى جَنَازَةٍ فَظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ كَبَّرَ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ , فَقَالَ: أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَلْتَحْسُنْ شَفَاعَتُكُمْ , قَالَ أَبُو الْمَلِيحِ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ سَلِيطٍ، عَنْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَهِيَ مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَخْبَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنْ مَيِّتٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ النَّاسِ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ" , فَسَأَلْتُ أَبَا الْمَلِيحِ عَنِ الْأُمَّةِ , فَقَالَ: أَرْبَعُونَ.
ابوبکار حکم بن فروخ کہتے ہیں ہمیں ابوملیح نے ایک جنازے کی نماز پڑھائی تو ہم نے سمجھا کہ وہ تکبیر (تکبیر اولیٰ) کہہ چکے (پھر کیا دیکھتا ہوں کہ) وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے، اور کہا: تم اپنی صفیں درست کرو تاکہ تمہاری سفارش کارگر ہو۔ ابوملیح کہتے ہیں: مجھ سے عبداللہ بن سلیط نے بیان کیا، انہوں نے امہات المؤمنین میں سے ایک سے روایت کی، اور وہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں، وہ کہتی ہیں: مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی، آپ نے فرمایا: جس میت کی بھی لوگوں کی ایک جماعت نماز جنازہ پڑھتی ہے تو اس کے حق میں (ان کی) شفاعت قبول کر لی جاتی ہے، تو میں نے ابوملیح سے جماعت (کی تعداد) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: چالیس افراد پر مشتمل گروہ امت (جماعت) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1995]
ابوبکار حکم بن فروخ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابو ملیح رحمہ اللہ نے ہمیں ایک میت کا جنازہ پڑھایا، ہم نے سمجھا کہ انہوں نے «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہہ دیا ہے لیکن (اچانک) انہوں نے ہماری طرف متوجہ ہوکر فرمایا: اپنی صفیں درست اور سیدھی کرو اور تمہاری سفارش بہترین ہونی چاہیے (کیونکہ) مجھے عبداللہ بن سلیط رضی اللہ عنہ نے امہات المومنین میں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جس میت پر مسلمانوں کی ایک جماعت جنازہ پڑھ دے، اس کے حق میں ان کی سفارش ضرور قبول ہوگی۔ میں نے ابو ملیح رحمہ اللہ سے پوچھا کہ وہ جماعت کتنی ہو؟ انہوں نے کہا: چالیس افراد۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1995]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18059)، مسند احمد 6/331، 334 (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ميمونة بنت الحارث الهلاليةصحابية
👤←👥عبد الله بن سليط الحجازي
Newعبد الله بن سليط الحجازي ← ميمونة بنت الحارث الهلالية
مقبول
👤←👥أبو المليح بن أسامة الهذلي، أبو المليح
Newأبو المليح بن أسامة الهذلي ← عبد الله بن سليط الحجازي
ثقة
👤←👥الحكم بن فروخ البصري، أبو بكار
Newالحكم بن فروخ البصري ← أبو المليح بن أسامة الهذلي
ثقة
👤←👥محمد بن سواء السدوسي، أبو الخطاب
Newمحمد بن سواء السدوسي ← الحكم بن فروخ البصري
صدوق رمي بالقدر
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← محمد بن سواء السدوسي
ثقة حافظ إمام
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1995 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1995
1995۔ اردو حاشیہ: بعض روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صراحتاً چالیس افراد کا ذکر آتا ہے۔ دیکھیے: (صحیح مسلم، الجنائز، حدیث: 948) اس لیے حضرت ابوملیح نے اس روایت میں بھی امت یعنی جماعت کی تفسیر چالیس افراد سے فرما دی۔ رحمہ اللہ۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1995]

Sunan an-Nasa'i Hadith 1995 in Urdu