سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
85. باب : اللحد والشق
باب: بغلی اور صندوقی قبر بنانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2009
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ، قال:" أَلْحِدُوا لِي لَحْدًا وَانْصِبُوا عَلَيَّ نَصْبًا كَمَا فُعِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے لیے بغلی قبر کھودنا، اور (اینٹیں) کھڑی کرنا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کی گئی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2009]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے (وصیت کے طور پر) فرمایا: میرے لیے لحد بنانا اور پھر اینٹیں لگا دینا جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کیا گیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2009]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، صحیح مسلم/الجنائز 29 (966)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 39 (1556)، (تحفة الأشراف: 3926)، مسند احمد 1/173 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2009 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2009
اردو حاشہ:
”لحد“ بغلی قبر جس میں میت کو رکھنے کی جگہ قبلے کی دیوار میں بنائی جاتی ہے۔ اور ”شق“ سیدھی قبر جس میں میت کو رکھنے کی جگہ قبر کے درمیان میں کھودی جاتی ہے۔ دونوں طریقے جائز ہیں مگر لحد بہتر ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لحد ہمارے لیے ہے اور شق دوسروں کے لیے۔“ (سنن أبي داود، الجنائز، حدیث: 3208) تفصیل متعلقہ حدیث میں آئے گی۔ إن شاء اللہ۔
”لحد“ بغلی قبر جس میں میت کو رکھنے کی جگہ قبلے کی دیوار میں بنائی جاتی ہے۔ اور ”شق“ سیدھی قبر جس میں میت کو رکھنے کی جگہ قبر کے درمیان میں کھودی جاتی ہے۔ دونوں طریقے جائز ہیں مگر لحد بہتر ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لحد ہمارے لیے ہے اور شق دوسروں کے لیے۔“ (سنن أبي داود، الجنائز، حدیث: 3208) تفصیل متعلقہ حدیث میں آئے گی۔ إن شاء اللہ۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2009]
Sunan an-Nasa'i Hadith 2009 in Urdu
محمد بن سعد الزهري ← سعد بن أبي وقاص الزهري