یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
114. باب : عذاب القبر
باب: قبر کے عذاب کا بیان۔
حدیث نمبر: 2060
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ صَوْتًا مِنْ قَبْرٍ , فَقَالَ:" مَتَى مَاتَ هَذَا؟" قَالُوا مَاتَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَسُرَّ بِذَلِكَ وَقَالَ:" لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی قبر سے ایک آواز سنی تو پوچھا: ”یہ کب مرا ہے؟“ لوگوں نے کہا: زمانہ جاہلیت میں مرا ہے، آپ اس بات سے خوش ہوئے، اور فرمایا: ”اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ تم ایک دوسرے کو دفن کرنا چھوڑ دو گے، تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں عذاب قبر سنا دے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2060]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قبر سے آواز سنی تو فرمایا: ”یہ کب فوت ہوا؟“ لوگوں نے بتایا کہ یہ دورِ جاہلیت میں فوت ہوا تھا۔ تو آپ کو خوشی ہوئی، پھر فرمایا: ”اگر یہ خطرہ نہ ہو کہ تم مردوں کو دفن نہیں کرو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تمھیں عذابِ قبر سنا دے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2060]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 711)، صحیح مسلم/الجنة 17 (2868)، مسند احمد 3/103، 111، 114، 153، 175، 176، 201، 273، 284 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥حميد بن أبي حميد الطويل، أبو عبيدة حميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة مدلس | |
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن المبارك الحنظلي ← حميد بن أبي حميد الطويل | ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير | |
👤←👥سويد بن نصر المروزي، أبو الفضل سويد بن نصر المروزي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي | ثقة |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2060 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2060
اردو حاشہ:
(1) اس روایت میں عذاب قبر سے مراد دوسرے معنیٰ ہیں، یعنی گناہوں کے سلسلے میں پہنچنے والا عذاب۔
(2) ”خوشی ہوئی“ کہ یہ مدفون شخص مسلمان نہیں تھا۔ مسلمان کو عذاب ہونے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہوتی۔ خوشی ہونے سے مراد تکلیف کا نہ ہونا اور فکر مندی کا ختم ہونا ہے، ورنہ نبیٔ کریم و رؤف و رحیم صلی اللہ علیہ وسلم کو عذاب پر کیسے خوشی ہوسکتی ہے؟
(3) ”دفن نہیں کرو گے“ عذاب قبر کے ڈر سے معلوم ہوتا ہے کہ دفن سے پہلے عذاب قبر شروع نہیں ہوتا، البتہ جو لوگ دفن نہیں کرتے، ان کا عذاب مرتے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ اور ان کی قبر سے مراد وہ ٹھکانا ہے جو ان کے جسم یا روح کو مرنے کے بعد دنیا و آخرت (برزخ) میں ملتا ہے۔ واللہ علیم قدیر۔ (عذاب قبر کی تفصیل کے لیے دیکھیے، حدیث: 2052)
(1) اس روایت میں عذاب قبر سے مراد دوسرے معنیٰ ہیں، یعنی گناہوں کے سلسلے میں پہنچنے والا عذاب۔
(2) ”خوشی ہوئی“ کہ یہ مدفون شخص مسلمان نہیں تھا۔ مسلمان کو عذاب ہونے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہوتی۔ خوشی ہونے سے مراد تکلیف کا نہ ہونا اور فکر مندی کا ختم ہونا ہے، ورنہ نبیٔ کریم و رؤف و رحیم صلی اللہ علیہ وسلم کو عذاب پر کیسے خوشی ہوسکتی ہے؟
(3) ”دفن نہیں کرو گے“ عذاب قبر کے ڈر سے معلوم ہوتا ہے کہ دفن سے پہلے عذاب قبر شروع نہیں ہوتا، البتہ جو لوگ دفن نہیں کرتے، ان کا عذاب مرتے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ اور ان کی قبر سے مراد وہ ٹھکانا ہے جو ان کے جسم یا روح کو مرنے کے بعد دنیا و آخرت (برزخ) میں ملتا ہے۔ واللہ علیم قدیر۔ (عذاب قبر کی تفصیل کے لیے دیکھیے، حدیث: 2052)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2060]
Sunan an-Nasa'i Hadith 2060 in Urdu
حميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري