پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب : ذكر الاختلاف على الزهري فيه
باب: (اس حدیث) میں زہری پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2105
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: وَذَكَرَ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمٍ، عَنْ أُوَيْسِ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ عَدِيدِ بَنِي تَيْمٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" هَذَا رَمَضَانُ قَدْ جَاءَكُمْ، تُفَتَّحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَتُغَلَّقُ فِيهِ أَبْوَابُ النَّارِ، وَتُسَلْسَلُ فِيهِ الشَّيَاطِينُ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا الْحَدِيثُ خَطَأٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رمضان ہے جو تمہارے پاس آپ پہنچا ہے اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں“۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ حدیث غلط ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2105]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رمضان المبارک تمہارے پاس تشریف لا چکا ہے، اس میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور آگ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین قید کر دیے جاتے ہیں۔“ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث صحیح نہیں۔ (یعنی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بجائے حضرت انس رضی اللہ عنہ کا ذکر صحیح نہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2105]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 240)، مسند احمد 3/236 (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2105 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2105
اردو حاشہ:
ابن اسحاق نے یہاں محمد بن مسلم زہری سے بیان کیا اور کہا: [وَذَکَرَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ اُوَیْسِ بْنِ اَبِیْ اُوَیْسٍ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالك] اور باقی تمام حفاظ کی مخالفت کی ہے، حالانکہ باقی تمام حفاظت [عِنِ الزُّھْرِیي عَن ابْنِ اَبِي اَنَسٍ عَنْ اَبِیْه عَنْ اَبِی ہُرَیْرَة] کہتے ہیں۔ ان میں عقیل بن خالد، صالح بن کیسان، شعیب بن ابی حمزہ اور یونس بن یزید ایلی ہیں۔ ان سب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث بتائی ہے۔ ابن اسحاق مدلس ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے سند میں وذکر محمد بن مسلم کہہ کر روایت بیان کی ہے جو کسی تدلیس کی غماز ہے اور اسی وجہ سے مذکورہ خطا کا صدور ہوا۔ مزید دیکھئے (ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 20/ 260)
ابن اسحاق نے یہاں محمد بن مسلم زہری سے بیان کیا اور کہا: [وَذَکَرَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ اُوَیْسِ بْنِ اَبِیْ اُوَیْسٍ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالك] اور باقی تمام حفاظ کی مخالفت کی ہے، حالانکہ باقی تمام حفاظت [عِنِ الزُّھْرِیي عَن ابْنِ اَبِي اَنَسٍ عَنْ اَبِیْه عَنْ اَبِی ہُرَیْرَة] کہتے ہیں۔ ان میں عقیل بن خالد، صالح بن کیسان، شعیب بن ابی حمزہ اور یونس بن یزید ایلی ہیں۔ ان سب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث بتائی ہے۔ ابن اسحاق مدلس ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے سند میں وذکر محمد بن مسلم کہہ کر روایت بیان کی ہے جو کسی تدلیس کی غماز ہے اور اسی وجہ سے مذکورہ خطا کا صدور ہوا۔ مزید دیکھئے (ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 20/ 260)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2105]
Sunan an-Nasa'i Hadith 2105 in Urdu
أويس بن أبي أويس التميمي ← أنس بن مالك الأنصاري