سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ : كَمِ الشَّهْرُ وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى الزُّهْرِيِّ فِي الْخَبَرِ عَنْ عَائِشَةَ
باب: مہینہ کتنے دنوں کا ہوتا ہے؟ نیز عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث میں زہری پر (راویوں کے) اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2133
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَقْسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى نِسَائِهِ شَهْرًا، فَلَبِثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، فَقُلْتُ: أَلَيْسَ قَدْ كُنْتَ آلَيْتَ شَهْرًا، فَعَدَدْتُ الْأَيَّامَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ ایک ماہ (تک) اپنی بیویوں کے پاس نہیں جائیں گے، چنانچہ آپ انتیس دن ٹھہرے رہے، تو میں نے عرض کیا: کیا آپ نے ایک مہینے کی قسم نہیں کھائی تھی؟ میں نے شمار کیا ہے، ابھی انتیس دن (ہوئے) ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2133]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ (ایک دفعہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ناراضی کی بنا پر) قسم کھا لی کہ اپنی بیویوں کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جاؤں گا۔ آپ انتیس دن تک اسی حال میں رہے۔ (پھر میرے پاس تشریف لائے) میں نے (یاد دہانی کے طور پر) عرض کیا کہ آپ نے ایک ماہ کی قسم نہیں کھائی تھی، میں نے تو انتیس دن شمار کیے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2133]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصیام 4 (1083)، والطلاق 5 (1479)، سنن الترمذی/تفسیر سورة التحریم (3318)، (تحفة الأشراف: 16635)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطلاق 24 (2059)، مسند احمد 6/163 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
4331
الجامع الكامل حدیث نمبر :
4331
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة معمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي، أبو محمد عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي | ثقة | |
👤←👥نصر بن علي الأزدي، أبو عمرو نصر بن علي الأزدي ← عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي | ثقة ثبت |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2133 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2133
اردو حاشہ:
(1) اختلاف یہ ہے کہ زہری کے بعض شاگردوں نے اس حدیث کو حضرت عائشہؓ کی طرف منسوب کیا ہے اور بعض نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف، تاہم یہ اختلاف ضرر رساں نہیں، حدیث دونوں سے صحیح طور پر ثابت ہے۔
(2) ”قسم کھالی۔“ اس طرح کی قسم کو شرعی زبان میں ”ایلاء“ کہتے ہیں۔ خاوند بیوی میں اگر کوئی ناچاقی ہو جائے تو خاوند اپنی بیوی سے وقتی طور پر تعلقات منقطع کر سکتا ہے مگر گھر میں رہنا ضروری ہے تاکہ عورت کوئی غلط قدم نہ اٹھائے۔ یہ کیفیت زیادہ سے زیادہ چار ماہ تک رہ سکتی ہے۔ اگر قسم اس سے زیادہ کی ہو تو قسم توڑنا فرض ہے اور چار ماہ کے بعد فوراً تعلقات قائم کرنا ضروری ہے ورنہ اسے طلاق دینا پڑے گی۔ وہ دونوں میں سے کوئی بھی کام نہ کرے تو قاضی یا حاکم اپنی طرف سے اسے مصاحبت پر مجبور کرے گا یا طلاق نافذ کر دے گا اور وہ عورت اس سے مستقل طور پر جدا ہو جائے گی۔ اگر مدت کم ہو تو قسم پوری کر سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک ماہ کی قسم کھائی تھی، لہٰذا آپ نے قسم پوری کی۔ اس واقعے کی تفصیل ان شاء اللہ آگے آئے گی۔
(3) ”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔“ یعنی قمری مہینہ جو احکام اسلامی میں معتبر ہے، تیس دن کا بھی ہوتا ہے اور انتیس کا بھی، لہٰذا انتیس دن کو بھی کامل مہینہ شمار کیا جائے گا۔ ایک مہینے کی قسم شرعاً انتیس دن کے لیے ہوگی۔ یہ اس جملے کا صحیح مفہوم ہے۔ بعض اہل علم نے یوں معنیٰ کیا ہے کہ ”یہ مہینہ انتیس کا ہے۔“ گویا اپ نے پہلی تاریخ کا چاند دیکھ کر قسم کھائی اور اگلا چاند دیکھ کر داخل ہوئے، مگر یہ بہت بعید بات ہے کہ آپ نے ناراضی کے باوجود چاند دیکھنے تک انتظار کیا اور پھر قسم کھائی اور پھر اگلا چاند دیکھتے ہی آپ داخل ہوئے۔ کیا جھگڑا عین چاند والے دن ہوا تھا؟ کسی حدیث میں اس کی صراحت نہیں۔ نہ یہ معنیٰ دل کو لگتا ہے جبکہ پہلا معنیٰ بالکل واضح ہے۔ واللہ أعلم
(1) اختلاف یہ ہے کہ زہری کے بعض شاگردوں نے اس حدیث کو حضرت عائشہؓ کی طرف منسوب کیا ہے اور بعض نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف، تاہم یہ اختلاف ضرر رساں نہیں، حدیث دونوں سے صحیح طور پر ثابت ہے۔
(2) ”قسم کھالی۔“ اس طرح کی قسم کو شرعی زبان میں ”ایلاء“ کہتے ہیں۔ خاوند بیوی میں اگر کوئی ناچاقی ہو جائے تو خاوند اپنی بیوی سے وقتی طور پر تعلقات منقطع کر سکتا ہے مگر گھر میں رہنا ضروری ہے تاکہ عورت کوئی غلط قدم نہ اٹھائے۔ یہ کیفیت زیادہ سے زیادہ چار ماہ تک رہ سکتی ہے۔ اگر قسم اس سے زیادہ کی ہو تو قسم توڑنا فرض ہے اور چار ماہ کے بعد فوراً تعلقات قائم کرنا ضروری ہے ورنہ اسے طلاق دینا پڑے گی۔ وہ دونوں میں سے کوئی بھی کام نہ کرے تو قاضی یا حاکم اپنی طرف سے اسے مصاحبت پر مجبور کرے گا یا طلاق نافذ کر دے گا اور وہ عورت اس سے مستقل طور پر جدا ہو جائے گی۔ اگر مدت کم ہو تو قسم پوری کر سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک ماہ کی قسم کھائی تھی، لہٰذا آپ نے قسم پوری کی۔ اس واقعے کی تفصیل ان شاء اللہ آگے آئے گی۔
(3) ”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔“ یعنی قمری مہینہ جو احکام اسلامی میں معتبر ہے، تیس دن کا بھی ہوتا ہے اور انتیس کا بھی، لہٰذا انتیس دن کو بھی کامل مہینہ شمار کیا جائے گا۔ ایک مہینے کی قسم شرعاً انتیس دن کے لیے ہوگی۔ یہ اس جملے کا صحیح مفہوم ہے۔ بعض اہل علم نے یوں معنیٰ کیا ہے کہ ”یہ مہینہ انتیس کا ہے۔“ گویا اپ نے پہلی تاریخ کا چاند دیکھ کر قسم کھائی اور اگلا چاند دیکھ کر داخل ہوئے، مگر یہ بہت بعید بات ہے کہ آپ نے ناراضی کے باوجود چاند دیکھنے تک انتظار کیا اور پھر قسم کھائی اور پھر اگلا چاند دیکھتے ہی آپ داخل ہوئے۔ کیا جھگڑا عین چاند والے دن ہوا تھا؟ کسی حدیث میں اس کی صراحت نہیں۔ نہ یہ معنیٰ دل کو لگتا ہے جبکہ پہلا معنیٰ بالکل واضح ہے۔ واللہ أعلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2133]
Sunan an-Nasa'i Hadith 2133 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق