🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. باب : ما يكره من الصيام في السفر
باب: سفر میں روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2258
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ الَّذِي قَبْلَهُ، لَا نَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ ابْنَ كَثِيرٍ عَلَيْهِ.
(تابعی) سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ غلط ہے، صحیح روایت وہ ہے جو پہلے گزری ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ کسی نے اس پر ابن محمد بن کثیر کی متابعت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2258]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، جس کی وضاحت خود مؤلف نے کر دی ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پا کر اصل حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمدأحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة مأمون
👤←👥محمد بن كثير الثقفي، أبو يوسف
Newمحمد بن كثير الثقفي ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي
مقبول
👤←👥إبراهيم بن يعقوب السعدي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن يعقوب السعدي ← محمد بن كثير الثقفي
ثقة حافظ
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2258 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2258
اردو حاشہ:
(1) اس روایت میں سند کی غلطی ہے، یعنی روایت کا سعید بن مسیب سے مرسلاً مروی ہونا خطا ہے۔ درست صحابی کے ذکر کے ساتھ ہے۔
(2) یہ روایت مختصر ہے، لہٰذا غلط فہمی ہو سکتی ہے کہ شاید سفر میں روزہ رکھنا اچھا نہیں، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود سفر میں روزے رکھتے رہے ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آپ کے سامنے سفر میں روزے رکھتے تھے۔ دراصل اس روایت کا ایک خاص محل ہے اور وہ یہ کہ جب روزہ مسافر کے لیے انتہائی مشقت کا باعث ہو اور روزے دار دوسرے کے لیے بوجھ اور مصیبت بن جائے، وہ اسے اور اس کے کام کاج کو سنبھالتے پھریں تو ایسا روزہ واقعتا نیکی نہیں۔ لیکن اگر مسافر آسانی سمجھتا ہو اور روزہ دار برداشت کر سکے، اپنا کام خود کرے، دوسرے کے لیے پریشانی اور بوجھ کا سبب نہ بنے تو ایسے شخص کے لیے سفر میں روزہ رکھنا نہ صرف جائز بلکہ افضل ہے۔ آئندہ باب وحدیث میں اس کی طرف اشارہ ہے۔ غرض جو صورت بھی انسان کے لیے باعث سہولت اور آرام دہ ہو، اسے ہی اپنانا افضل ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھئے۔ (ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 21/ 134-141)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2258]