سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ مُعَاوِيَةَ بْنِ سَلاَّمٍ وَعَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں معاویہ بن سلام اور علی بن المبارک کے یحییٰ بن ابی کثیر پر اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2283
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ هَانِئِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ مُسَافِرًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَأْكُلُ، وَأَنَا صَائِمٌ , فَقَالَ:" هَلُمَّ"، قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ , قَالَ:" أَتَدْرِي مَا وَضَعَ اللَّهُ عَنِ الْمُسَافِرِ؟" , قُلْتُ: وَمَا وَضَعَ اللَّهُ عَنِ الْمُسَافِرِ؟ قَالَ:" الصَّوْمَ وَشَطْرَ الصَّلَاةِ".
عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ میں مسافر تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ کھانا کھا رہے تھے اور میں روزے سے تھا، آپ نے فرمایا: آؤ (کھانا کھا لو) میں نے کہا: میں روزے سے ہوں۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہیں وہ چیز معلوم ہے جس کی اللہ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے؟، میں نے کہا: کس چیز کی اللہ تعالیٰ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزے اور آدھی نماز کی“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2283]
حضرت ہانی بن عبداللہ بن شخیر اپنے والد محترم رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: میں مسافر تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کھانا کھا رہے تھے اور میرا روزہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آؤ۔“ میں نے کہا: میرا تو روزہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے مسافر کو کیا معاف کیا ہے؟“ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مسافر کو کیا معاف کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ اور نصف نماز۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2283]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2281 (صحیح) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’ھانی‘‘ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
Sunan an-Nasa'i Hadith 2283 in Urdu
هانئ بن عبد الله العامري ← عبد الله بن الشخير الحرشي