سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
53. باب : ذكر قوله الصائم في السفر كالمفطر في الحضر .
باب: حدیث نبوی ”سفر میں روزہ رکھنے والا حضر میں افطار کرنے والے کی طرح ہے“ کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2288
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: الصَّائِمُ فِي السَّفَرِ كَالْمُفْطِرِ فِي الْحَضَرِ".
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں: سفر میں روزہ رکھنے والا حضر میں افطار کرنے والے کی طرح ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2288]
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”سفر میں روزہ رکھنے والا گھر رہ کر روزہ نہ رکھنے والے کی طرح ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2288]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9719-ألف) (ضعیف)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جس طرح حضر میں افطار کرنا گناہ ہے اس طرح سفر میں روزہ رکھنا بھی باعث گناہ ہے، مگر یہ صحابی کا قول ہے جو حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف ہے (یعنی مسافر کو چھوٹ ہے چاہے رکھے، چاہے نہ رکھے اور قضاء کرے)۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، الزهري عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 338
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2288 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2288
اردو حاشہ:
یہ روایت زیادہ سے زیادہ موقوف (یعنی صحابی کا قول) ہے، علاوہ ازیں تینوں روایات سنداً ضعیف ہیں، نیز روایت: 2286 سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قول کے قائل کا بھی علم نہیں کہ کون ہے۔ ویسے بھی اس قول کا مطلب مندرجہ بالا مرفوع احادیث کے مخالف نہیں لیا جا سکتا، یعنی اگر سفر میں روزہ انتہائی مشقت کا سبب ہو جس سے روزے دار عاجز آجائے اور دوسروں کے لیے مصیبت کا سبب بنے تب سفر میں روزہ رکھنا مناسب نہیں ورنہ جائز ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فعل سے ثابت ہے۔ کسی قول کا ایسا مطلب نہیں لیا جا سکتا جو صریح حدیث کے خلاف ہو۔
یہ روایت زیادہ سے زیادہ موقوف (یعنی صحابی کا قول) ہے، علاوہ ازیں تینوں روایات سنداً ضعیف ہیں، نیز روایت: 2286 سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قول کے قائل کا بھی علم نہیں کہ کون ہے۔ ویسے بھی اس قول کا مطلب مندرجہ بالا مرفوع احادیث کے مخالف نہیں لیا جا سکتا، یعنی اگر سفر میں روزہ انتہائی مشقت کا سبب ہو جس سے روزے دار عاجز آجائے اور دوسروں کے لیے مصیبت کا سبب بنے تب سفر میں روزہ رکھنا مناسب نہیں ورنہ جائز ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فعل سے ثابت ہے۔ کسی قول کا ایسا مطلب نہیں لیا جا سکتا جو صریح حدیث کے خلاف ہو۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2288]
Sunan an-Nasa'i Hadith 2288 in Urdu
حميد بن عبد الرحمن الزهري ← عبد الرحمن بن عوف الزهري