یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
57. باب : ذكر الاختلاف على عروة في حديث حمزة فيه
باب: حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کی حدیث میں عروہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2305
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَمْرٌو، وَذَكَرَ آخَرَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَجِدُ فِيَّ قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ؟ قَالَ:" هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ".
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں اپنے اندر سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں، تو کیا (اگر میں روزہ رکھوں تو) مجھ پر گناہ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ عزوجل کی جانب سے رخصت ہے، تو جس نے اس رخصت کو اختیار کیا تو یہ اچھا ہے، اور جو روزہ رکھنا چاہے تو اس پر کوئی حرج نہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2305]
حضرت حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں اپنے آپ میں دورانِ سفر روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں، تو کیا روزہ رکھنے میں مجھ پر کوئی گناہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ نہ رکھنا اللہ عزوجل کی طرف سے رخصت ہے۔ جو رخصت پر عمل کرے تو اچھی بات ہے اور جو روزہ رکھنا چاہے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2305]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2296 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2305 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2305
اردو حاشہ:
مندرجہ بالا روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صراحتاً ثابت ہے کہ سفر میں روزہ رکھنا، نہ رکھنا برابر ہے۔ ہر مسافر اپنے حالات کے لحاظ سے دونوں میں سے کسی پر بھی عمل کر سکتا ہے۔ اگر مشقت نہ ہو تو فرض روزہ رکھ لینا بہتر اور افضل ہے کیونکہ بعد میں قضا میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے (اگرچہ نہ رکھنا بھی جائز ہے) اور اگر مشقت ہو تو روزہ نہ رکھنا بہتر ہے تاکہ روزہ اس کے اور اس کے ساتھیوں کے لیے مصیبت نہ بن جائے۔ نفلی روزے میں دونوں باتیں برابر ہیں۔ یہ مندرجہ بالا روایات کا خلاصہ ہے۔ اس طریقے سے تمام روایات پر عمل ہو جائے گا۔
مندرجہ بالا روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صراحتاً ثابت ہے کہ سفر میں روزہ رکھنا، نہ رکھنا برابر ہے۔ ہر مسافر اپنے حالات کے لحاظ سے دونوں میں سے کسی پر بھی عمل کر سکتا ہے۔ اگر مشقت نہ ہو تو فرض روزہ رکھ لینا بہتر اور افضل ہے کیونکہ بعد میں قضا میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے (اگرچہ نہ رکھنا بھی جائز ہے) اور اگر مشقت ہو تو روزہ نہ رکھنا بہتر ہے تاکہ روزہ اس کے اور اس کے ساتھیوں کے لیے مصیبت نہ بن جائے۔ نفلی روزے میں دونوں باتیں برابر ہیں۔ یہ مندرجہ بالا روایات کا خلاصہ ہے۔ اس طریقے سے تمام روایات پر عمل ہو جائے گا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2305]
Sunan an-Nasa'i Hadith 2305 in Urdu
سعد الغفاري ← حمزة بن عمرو الأسلمي