🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
57. باب : ذكر الاختلاف على عروة في حديث حمزة فيه
باب: حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کی حدیث میں عروہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2305
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَمْرٌو، وَذَكَرَ آخَرَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَجِدُ فِيَّ قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ؟ قَالَ:" هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ".
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں اپنے اندر سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں، تو کیا (اگر میں روزہ رکھوں تو) مجھ پر گناہ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ عزوجل کی جانب سے رخصت ہے، تو جس نے اس رخصت کو اختیار کیا تو یہ اچھا ہے، اور جو روزہ رکھنا چاہے تو اس پر کوئی حرج نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2305]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2296 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥حمزة بن عمرو الأسلمي، أبو محمد، أبو صالحصحابي
👤←👥سعد الغفاري، أبو مراوح
Newسعد الغفاري ← حمزة بن عمرو الأسلمي
صحابي صغير
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← سعد الغفاري
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن عبد الرحمن الأسدي، أبو الأسود
Newمحمد بن عبد الرحمن الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة
👤←👥عمرو بن الحارث الأنصاري، أبو أيوب، أبو أمية
Newعمرو بن الحارث الأنصاري ← محمد بن عبد الرحمن الأسدي
ثقة فقيه حافظ
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← عمرو بن الحارث الأنصاري
ثقة حافظ
👤←👥الربيع بن سليمان الأزدي، أبو محمد
Newالربيع بن سليمان الأزدي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2305 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2305
اردو حاشہ:
مندرجہ بالا روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صراحتاً ثابت ہے کہ سفر میں روزہ رکھنا، نہ رکھنا برابر ہے۔ ہر مسافر اپنے حالات کے لحاظ سے دونوں میں سے کسی پر بھی عمل کر سکتا ہے۔ اگر مشقت نہ ہو تو فرض روزہ رکھ لینا بہتر اور افضل ہے کیونکہ بعد میں قضا میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے (اگرچہ نہ رکھنا بھی جائز ہے) اور اگر مشقت ہو تو روزہ نہ رکھنا بہتر ہے تاکہ روزہ اس کے اور اس کے ساتھیوں کے لیے مصیبت نہ بن جائے۔ نفلی روزے میں دونوں باتیں برابر ہیں۔ یہ مندرجہ بالا روایات کا خلاصہ ہے۔ اس طریقے سے تمام روایات پر عمل ہو جائے گا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2305]