🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
70. باب : صوم النبي صلى الله عليه وسلم - بأبي هو وأمي - وذكر اختلاف الناقلين للخبر في ذلك
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم (میرے باپ ماں آپ پر فدا ہوں) کا روزہ اور اس سلسلہ میں ناقلین حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2359
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ أَبُو الْغُصْنِ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَمْ أَرَكَ تَصُومُ شَهْرًا مِنَ الشُّهُورِ مَا تَصُومُ مِنْ شَعْبَانَ , قَالَ:" ذَلِكَ شَهْرٌ يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ بَيْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ، وَهُوَ شَهْرٌ تُرْفَعُ فِيهِ الْأَعْمَالُ إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ، فَأُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ".
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جتنا میں آپ کو شعبان کے مہینے میں روزہ رکھتے ہوئے دیکھتا ہوں اتنا کسی اور مہینے میں نہیں دیکھتا، آپ نے فرمایا: رجب و رمضان کے درمیان یہ ایسا مہینہ ہے جس سے لوگ غفلت برتتے ہیں، یہ ایسا مہینہ ہے جس میں آدمی کے اعمال رب العالمین کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، تو میں چاہتا ہوں کہ جب میرا عمل پیش ہو تو میں روزہ سے رہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2359]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میں نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو کسی مہینے میں اتنے روزے رکھتے نہیں دیکھا جتنے آپ شعبان میں رکھتے ہیں۔ (کیا وجہ ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ مہینہ ہے کہ رجب اور رمضان المبارک کے درمیان آنے کی وجہ سے لوگ اس سے غفلت کر جاتے ہیں، حالانکہ یہ وہ مہینہ ہے کہ اس میں رب العالمین کے ہاں انسانوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے عمل پیش ہوں تو میں روزے سے ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2359]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 120)، مسند احمد 5/201 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أسامة بن زيد الكلبي، أبو حارثة، أبو يزيد، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو زيدصحابي
👤←👥كيسان المقبري، أبو سعيد
Newكيسان المقبري ← أسامة بن زيد الكلبي
ثقة ثبت
👤←👥ثابت بن قيس الغفاري، أبو الغصن
Newثابت بن قيس الغفاري ← كيسان المقبري
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد
Newعبد الرحمن بن مهدي العنبري ← ثابت بن قيس الغفاري
ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث
👤←👥عمرو بن علي الفلاس، أبو حفص
Newعمرو بن علي الفلاس ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري
ثقة حافظ
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2359 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2359
اردو حاشہ:
(1) رجب اور رمضان البمارک دونوں مہینوں کا تقدس مسلمہ تھا۔ رجب کا اس لیے کہ یہ حرمت والے مہینوں میں شامل ہے اور رمضان المبارک کا روزوں کی وجہ سے۔ لوگ ان دونوں مہینوں میں نیکی کے کام خوب کرتے تھے۔ شعبان کو خالی مہینہ خیال کیا جاتا تھا، حالانکہ اس کی اپنی فضیلت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی۔
(2) اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔ اعمال تو ہر روز صبح اور عصر کے وقت بھی پیش ہوتے ہیں اور ہر ہفتے میں سوموار اور جمعرات کو بھی پیش ہوتے ہیں۔ گویا یہ سالانہ پیشی ہے اور اجمالی طور پر سارے سال کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔ ان پیشیوں کی حکمت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ تمام اعمال سے ذاتی طور پر بخوبی واقف ہے۔
(3) میں روزے سے ہوں۔ کیونکہ روزہ افضل عبادت ہے۔ اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوموار اور جمعرات کا روزہ بھی رکھا کرتے تھے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2359]

Sunan an-Nasa'i Hadith 2359 in Urdu