سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب : إعطاء السيد المال بغير اختيار المصدق
باب: مالک کا خود زکاۃ نکال کر محصل زکاۃ کو دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2468
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِلَالٍ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: كِدْتُ أُقْتَلُ بَعْدَكَ فِي عَنَاقٍ أَوْ شَاةٍ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ:" لَوْلَا أَنَّهَا تُعْطَى فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ مَا أَخَذْتُهَا".
عبداللہ بن ہلال ثقفی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: (لوگ اتنے جھگڑالو اور نادہند ہو گئے ہیں کہ) قریب ہے کہ میں آپ کے بعد زکاۃ کی بکری کے ایک بچے یا ایک بکری کے لیے قتل کر دیا جاؤں گا، تو آپ نے فرمایا: ”اگر وہ فقراء مہاجرین کو نہ دی جاتی ہوتی تو اسے میں نہ لیتا“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2468]
حضرت عبداللہ بن ہلال ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: قریب تھا کہ مجھے آپ کی عدم موجودگی میں زکاۃ کی ایک بکری کی وجہ سے قتل کر دیا جاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر فقراء اور مہاجرین (اور دوسرے مستحقین) کو زکاۃ نہ دی جاتی (ان لوگوں کو زکاۃ دینے کی مجبوری نہ ہوتی) تو میں زکاۃ وصول ہی نہ کرتا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2468]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 671) (ضعیف) (یہ روایت مرسل ہے، عبداللہ بن ہلال ثقفی تابعی ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، الثوري عنعن (تقدم: 2266) وفيه علة أخري: عبد الله بن هلال: مختلف فى صحبته (تقريب: 3682) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 340
الرواة الحديث:
Sunan an-Nasa'i Hadith 2468 in Urdu
عثمان بن عبد الله الطائفي ← عبد الله بن هلال الثقفي