یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب : قوله عز وجل { ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون }
باب: اللہ عزوجل کے فرمان: ”اللہ کی راہ میں برا مال خرچ کرنے کا قصد نہ کرو“ کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 2494
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَلِيلِ بْنُ حُمَيْدٍ الْيَحْصَبِيُّ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ فِي الْآيَةِ الَّتِي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَلا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ سورة البقرة آية 267 , قَالَ: هُوَ الْجُعْرُورُ وَلَوْنُ حُبَيْقٍ،" فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُؤْخَذَ فِي الصَّدَقَةِ الرُّذَالَةُ".
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ ابوامامہ بن سہیل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے اللہ عز و جل کے فرمان: «ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون» ”اللہ کی راہ میں برا مال خرچ کرنے کا قصد نہ کرو“ (البقرہ: ۲۶۷) کے متعلق مجھ سے بیان کیا کہ «خبيث» سے مراد «جعرور» اور «لون حبیق» ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ میں خراب مال لینے سے منع فرما دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2494]
حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ﴾ [سورة البقرة: 267] ”تم (اللہ تعالیٰ کے راستے میں) خرچ کرتے وقت ردی چیز نہ دیا کرو۔“ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کا مصداق «الْجُعْرُورُ» اور «لَوْنُ حُبَيْقٍ» کھجوریں ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”زکاۃ میں ردی اور ناقص مال وصول کرنے سے منع فرمایا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2494]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 139، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الزکاة16 (1607) نحوہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «جعرور» اور «لون حبیق» دونوں کھجور کی گھٹیا قسموں کے نام ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2494 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2494
اردو حاشہ:
جعرور اور لون حبیق کھجوروں کی ردی قسمیں ہیں۔ چھوٹی چھوٹی کھجوریں ہوتی تھیں جن کی کوئی وقعت نہ تھی، البتہ یاد ہے کہ اگر پیداوار ہی اس قسم کی ہے تو ظاہر ہے کہ زکاۃ میں بھی وہی دی جائیں گی۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر پیداوار میں اچھی قسم کی یا ملی جلی کھجوریں ہوں تو زکاۃ میں ردی کھجوریں نہ لی جائیں جیسی پیداوار ہو، اس کے مطابق ہی زکاۃ چاہیے تاکہ بیت المال کا نقصان ہو، نہ مالک کا۔
جعرور اور لون حبیق کھجوروں کی ردی قسمیں ہیں۔ چھوٹی چھوٹی کھجوریں ہوتی تھیں جن کی کوئی وقعت نہ تھی، البتہ یاد ہے کہ اگر پیداوار ہی اس قسم کی ہے تو ظاہر ہے کہ زکاۃ میں بھی وہی دی جائیں گی۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر پیداوار میں اچھی قسم کی یا ملی جلی کھجوریں ہوں تو زکاۃ میں ردی کھجوریں نہ لی جائیں جیسی پیداوار ہو، اس کے مطابق ہی زکاۃ چاہیے تاکہ بیت المال کا نقصان ہو، نہ مالک کا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2494]
Sunan an-Nasa'i Hadith 2494 in Urdu
محمد بن شهاب الزهري ← أسعد بن سهل الأنصاري