🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. باب : فرض صدقة الفطر قبل نزول الزكاة
باب: زکاۃ کی فرضیت کے اترنے سے پہلے صدقہ فطر کی فرضیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2508
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ:" كُنَّا نَصُومُ عَاشُورَاءَ، وَنُؤَدِّي زَكَاةَ الْفِطْرِ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ وَنَزَلَتِ الزَّكَاةُ، لَمْ نُؤْمَرْ بِهِ، وَلَمْ نُنْهَ عَنْهُ وَكُنَّا نَفْعَلُهُ".
قیس بن سعد بن عبادہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے، اور عید الفطر کا صدقہ ادا کرتے تھے، پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے، اور زکاۃ کی (فرضیت) اتری، تو نہ ہمیں ان کا حکم دیا گیا نہ ہی ان کے کرنے سے روکا گیا، اور ہم (جیسے کرتے تھے) اسے کرتے رہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2508]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11093) (شاذ) (اس کے راوی ”عمرو بن شرحبیل“ لین الحدیث ہیں، نیز یہ حدیث ’’فرض رسول صلی الله علیہ وسلم صدقة الفطر (رقم 2502) کی مخالف ہے جو صحیحین کی حدیث ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥قيس بن سعد الأنصاري، أبو عبد الملك، أبو عبد الله، أبو الفضلصحابي
👤←👥عمرو بن شرحبيل الهمداني، أبو ميسرة
Newعمرو بن شرحبيل الهمداني ← قيس بن سعد الأنصاري
ثقة
👤←👥القاسم بن مخيمرة الهمداني، أبو عروة
Newالقاسم بن مخيمرة الهمداني ← عمرو بن شرحبيل الهمداني
ثقة
👤←👥الحكم بن عتيبة الكندي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عمر
Newالحكم بن عتيبة الكندي ← القاسم بن مخيمرة الهمداني
ثقة ثبت
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← الحكم بن عتيبة الكندي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥يزيد بن زريع العيشي، أبو معاوية
Newيزيد بن زريع العيشي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة ثبت
👤←👥إسماعيل بن مسعود الجحدري، أبو مسعود
Newإسماعيل بن مسعود الجحدري ← يزيد بن زريع العيشي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2508 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2508
اردو حاشہ:
اس روایت سے بعض حضرات نے استدلال کیا ہے کہ صدقۃ الفطر فرض نہیں رہا، حالانکہ اس قول میں ایسی کوئی صراحت نہیں کیونکہ ایک نئی چیز کی فرضیت سے پرانی چیز کی فرضیت منسوخ نہیں ہو جاتی ہے۔ اور نہ اس کے لیے کسی نئے حکم ہی کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ دوسری صریح روایات میں اس کی فرضیت ثابت ہے۔ زکاۃ کی فرضیت تو 2 ہجری کی ہے۔ بعد میں مسلمان ہونے والے حضرات نے اس کی فرضیت ذکر کی ہے، مثلاً: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ (دیکھیے، حدیث: 2510، 2517) لہٰذا صدقۃ الفطر زکاۃ کی فرضیت کے باوجود فرض ہے، البتہ احناف نے اسے واجب کہا ہے مگر عملاً واجب اور فرض میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ باقی رہا عاشوراء کا روزہ تو اس کے بارے میں صراحتاً مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رکھنے نہ رکھنے کا اختیار دے دیا تھا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2508]