سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب : فرض صدقة الفطر قبل نزول الزكاة
باب: زکاۃ کی فرضیت کے اترنے سے پہلے صدقہ فطر کی فرضیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2509
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الزَّكَاةُ، فَلَمَّا نَزَلَتِ الزَّكَاةُ لَمْ يَأْمُرْنَا، وَلَمْ يَنْهَنَا وَنَحْنُ نَفْعَلُهُ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَبُو عَمَّارٍ اسْمُهُ عَرِيبُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَعَمْرُو بْنُ شُرَحْبِيلَ يُكْنَى أَبَا مَيْسَرَةَ، وَسَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ خَالَفَ الْحَكَمَ فِي إِسْنَادِهِ وَالْحَكَمُ أَثْبَتُ مِنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ.
قیس بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زکاۃ کی فرضیت اترنے سے پہلے صدقہ فطر کا حکم دیا تھا، پھر جب زکاۃ کی فرضیت اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نہ کرنے کا حکم دیا اور نہ ہی روکا، اور ہم اسے کرتے رہے۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں: ابوعمار کا نام عریب بن حمید ہے۔ اور عمرو بن شرحبیل کی کنیت ابومیسرہ ہے، اور سلمہ بن کہیل نے اپنی سند میں حکم کی مخالفت کی ہے اور حکم سلمہ بن کہیل سے زیادہ ثقہ راوی ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2509]
حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقۂ فطر (کی ادائیگی) کا حکم زکاۃ (کی فرضیت) اترنے سے پہلے دیا تھا۔ جب زکاۃ (کی فرضیت) نازل ہوئی تو نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا (نیا) حکم دیا اور نہ اس سے منع فرمایا، اور ہم اس (صدقۂ فطر) کو ادا کرتے رہے۔ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ابوعمار کا نام عریب بن حمید ہے، عمرو بن شرحبیل کی کنیت ابومیسرہ ہے۔ سلمہ بن کہیل نے اس حدیث کی سند کے بیان میں حکم کی مخالفت کی ہے، لیکن حکم سلمہ بن کہیل سے زیادہ ثقہ ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2509]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الزکاة 21 (1828)، (تحفة الأشراف: 11098)، مسند احمد (2/421، 6/6) (شاذ)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: سند میں ”عمرو بن شرحبيل“ ہونا بمقابلہ ”أبي عمار الهمداني“ اثبت ہے، حالانکہ اصل راوی ”عمرو بن شرحبیل بن سعید بن سعد بن عبادہ“ ہونا زیادہ قرین قیاس ہے، کیونکہ حدیث ”قیس بن سعد بن عبادہ“ سے مروی ہے، اور یہ عمرو ”لین الحدیث“ ہیں، اور اگر یہ حدیث ”عمرو بن شرحبیل ابو میسرۃ“ ہی سے مروی ہو تب بھی یہ صحیحین کی حدیث ”فرض صدقۃ الفطر“ کے مخالف ہے، اس لیے شاذ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
2509
| قبل أن تنزل الزكاة فلما نزلت الزكاة لم يأمرنا ولم ينهنا ونحن نفعله |
سنن ابن ماجه |
1828
| قبل أن تنزل الزكاة فلما نزلت الزكاة لم يأمرنا ولم ينهنا ونحن نفعله |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2509 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2509
اردو حاشہ:
سابقہ روایت میں حضرت حکم نے قاسم بن مخیمرۃ کا استاد عمرو بن شرحبیل بتلایا ہے جبکہ سلمہ بن کہیل نے ابو عمار ہمدانی بتلایا ہے۔
سابقہ روایت میں حضرت حکم نے قاسم بن مخیمرۃ کا استاد عمرو بن شرحبیل بتلایا ہے جبکہ سلمہ بن کہیل نے ابو عمار ہمدانی بتلایا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2509]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1828
صدقہ فطر کا بیان۔
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کا حکم نازل ہونے سے پہلے ہمیں صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا، لیکن جب زکاۃ کا حکم نازل ہو گیا تو نہ تو ہمیں صدقہ فطر دینے کا حکم دیا، اور نہ ہی منع کیا، اور ہم اسے دیتے رہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1828]
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کا حکم نازل ہونے سے پہلے ہمیں صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا، لیکن جب زکاۃ کا حکم نازل ہو گیا تو نہ تو ہمیں صدقہ فطر دینے کا حکم دیا، اور نہ ہی منع کیا، اور ہم اسے دیتے رہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1828]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اس حدیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ فطر کی ادائیکی واجب نہیں تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ فطر جمع کر کے فقراء میں تقسیم کرنے کے اہتمام سے اندازہ ہوتا ہے کہ زکاۃ کے احام نازل ہونے سے صدقہ فطر کا وجوب منسوخ نہیں ہوا۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کی ادائیکی سے منع نہیں فرمایا، اس سے بھی یہی اشارہ ملتا ہے کہ اس کی مشروعیت منسوخ نہیں ہوئی ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واضح فرما دیتے کہ اب اس کی ادائیگی ضروری نہیں رہی۔
فوائد و مسائل:
(1)
اس حدیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ فطر کی ادائیکی واجب نہیں تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ فطر جمع کر کے فقراء میں تقسیم کرنے کے اہتمام سے اندازہ ہوتا ہے کہ زکاۃ کے احام نازل ہونے سے صدقہ فطر کا وجوب منسوخ نہیں ہوا۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کی ادائیکی سے منع نہیں فرمایا، اس سے بھی یہی اشارہ ملتا ہے کہ اس کی مشروعیت منسوخ نہیں ہوئی ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واضح فرما دیتے کہ اب اس کی ادائیگی ضروری نہیں رہی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1828]
Sunan an-Nasa'i Hadith 2509 in Urdu
عريب بن حميد الهمداني ← قيس بن سعد الأنصاري