🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. باب : إذا أعطاها غنيا وهو لا يشعر
باب: لاعلمی میں کسی مالدار کو صدقہ دے دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2524
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، مِمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، مِمَّا ذَكَرَ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ بِهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" قَالَ رَجُلٌ: لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ سَارِقٍ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَى سَارِقٍ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى سَارِقٍ، لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ زَانِيَةٍ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ، تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى زَانِيَةٍ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ، لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ غَنِيٍّ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَى غَنِيٍّ , قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ وَعَلَى سَارِقٍ وَعَلَى غَنِيٍّ، فَأُتِيَ فَقِيلَ لَهُ: أَمَّا صَدَقَتُكَ فَقَدْ تُقُبِّلَتْ، أَمَّا الزَّانِيَةُ فَلَعَلَّهَا أَنْ تَسْتَعِفَّ بِهِ مِنْ زِنَاهَا، وَلَعَلَّ السَّارِقَ أَنْ يَسْتَعِفَّ بِهِ عَنْ سَرِقَتِهِ، وَلَعَلَّ الْغَنِيَّ أَنْ يَعْتَبِرَ فَيُنْفِقَ مِمَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص نے کہا: میں ضرور صدقہ دوں گا، تو وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اس نے اسے ایک چور کے ہاتھ میں رکھ دیا، صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ ایک چور کو صدقہ دیا گیا ہے، اس نے کہا: اللہ تیرا شکر ہے چور کے ہاتھ میں چلے جانے پر بھی ۱؎، میں اور بھی صدقہ دوں گا چنانچہ (دوسرے دن بھی) وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اس نے اسے لے جا کر ایک زانیہ عورت کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ آج رات ایک زانیہ کو صدقہ دیا گیا ہے۔ تو اس نے پھر کہا: اللہ تیرا شکر ہے زانیہ کے ہاتھ میں چلے جانے پر بھی، میں پھر صدقہ دوں گا، چنانچہ (تیسرے دن) پھر وہ صدقہ کا مال لے کر نکلا، اور ایک مالدار شخص کو تھما آیا، پھر صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ ایک مالدار شخص کو صدقہ کیا گیا ہے، اس نے کہا: اللہ تیرا شکر ہے، زانیہ، چور اور مالدار کو دے دینے پر بھی۔ تو خواب میں اس کے پاس آ کر کہا گیا: رہا تیرا صدقہ تو وہ قبول کر لیا گیا ہے، رہی زانیہ تو (صدقہ پا کر) شاید وہ زناکاری سے باز آ جائے اور رہا چور تو صدقہ پا کر شاید وہ اپنی چوری سے باز آ جائے، اور رہا مالدار آدمی (تو صدقہ پا کر) شاید وہ اس سے سبق سیکھے اور اللہ عزوجل نے اسے جو دولت دے رکھی ہے اس میں سے خرچ کرنے لگے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2524]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (بنی اسرائیل میں سے) ایک آدمی نے کہا: میں آج ضرور صدقہ کروں گا۔ وہ (رات کے وقت) اپنا صدقہ لے کر نکلا اور جا کر ایک چور کے ہاتھ پر رکھ دیا، تو صبح لوگ یہ کہنے لگے کہ چور پر صدقہ کیا گیا ہے۔ اس نے کہا: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ» اے اللہ! تیرا شکر ہے (اگرچہ) چور پر صدقہ ہو گیا ہے۔ آج میں پھر صدقہ کروں گا۔ وہ صدقہ لے کر نکلا تو کسی زانیہ کے ہاتھ پر رکھ آیا۔ صبح لوگ یہ کہنے لگے کہ رات ایک بدکار عورت پر صدقہ کیا گیا۔ اس آدمی نے کہا: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ» اے اللہ! تیرا شکر ہے (اگرچہ) زانیہ پر صدقہ ہو گیا ہے۔ آج پھر میں صدقہ کروں گا، پھر وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور ایک غنی کو دے آیا۔ صبح لوگ چہ میگوئیاں کرنے لگے کہ (تعجب ہے) مال دار پر صدقہ کیا گیا ہے۔ وہ شخص کہنے لگا: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ» اے اللہ! تیرا شکر ہے (عجیب بات ہے) کبھی بدکار عورت پر صدقہ ہو جاتا ہے، کبھی چور پر اور کبھی مال دار پر۔ پھر خواب میں اس سے کہا گیا: تیرا صدقہ تو یقیناً قبول ہو چکا۔ رہی زانیہ! (یعنی اس پر کیا ہوا صدقہ) تو (وہ اس لیے قبول ہے کہ) شاید اس صدقے کی وجہ سے وہ بدکاری سے باز آ جائے، اور چور! شاید وہ اس (صدقے) کی وجہ سے چوری کرنے سے باز آ جائے اور مال دار! شاید وہ عبرت و نصیحت حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے مال سے خرچ کرنے لگے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2524]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 14 (1421)، (تحفة الأشراف: 13735)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزکاة 24 (1022)، مسند احمد 2/322 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، أبو داود
Newعبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت عالم
👤←👥عبد الله بن ذكوان القرشي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن ذكوان القرشي ← عبد الرحمن بن هرمز الأعرج
إمام ثقة ثبت
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر
Newشعيب بن أبي حمزة الأموي ← عبد الله بن ذكوان القرشي
ثقة حافظ متقن
👤←👥علي بن عياش الألهاني، أبو الحسن
Newعلي بن عياش الألهاني ← شعيب بن أبي حمزة الأموي
ثقة ثبت
👤←👥عمران بن بكار الكلاعي، أبو موسى
Newعمران بن بكار الكلاعي ← علي بن عياش الألهاني
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2524 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2524
اردو حاشہ:
(1) مندرجہ بالا واقعہ بنی اسرائیل کا ہے۔ جب تک ہماری شریعت پہلی شریعتوں کی کسی بات کی تردید نہ کرے، اس وقت تک پہلی بات بھی حجت ہے۔ مذکورہ واقعہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرما کر تصدیق فرما دی، لہٰذا حجت ہے۔ اسی طرح کسی کا خواب حجت تو نہیں ہوتا مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق سے یہ بھی حجت بن گیا۔
(2) اس واقعے سے معلوم ہوا کہ اگر غلطی یا لا علمی سے زکاۃ کسی ایسے شخص کو دے دی گئی ہو جو مستحق نہیں تھا تو ادا کرنے والے شخص پر کوئی ملامت نہیں، نیز وہ بریٔ الذمہ ہو جاتا ہے، اگرچہ لینے والے کے لیے جائز نہیں، البتہ اس واقعے میں یہ صراحت نہیں کہ وہ صدقہ فرض تھا یا نفل۔ ہاں، اگر جان بوجھ کر غیر مستحق کو ادا کرے تو وہ بریٔ الذمہ نہ ہوگا۔
(3) چور اور زانیہ اگر فقیر تھے تو وہ صدقے کے مستحق تھے۔ ہو سکتا ہے کہ چور فقر کی وجہ سے چوری کرتا ہو اور زانیہ بھی فقر کی وجہ سے زنا کا ارتکاب کرتی ہو۔ اگرچہ اس صورت میں بھی یہ جرائم ان کے لیے جائز نہ تھے مگر ان جرائم کے باوجود وہ فقر کی وجہ سے زکاۃ کے مستحق تھے۔ صدقہ کرنے والے کا اظہار افسوس عرف کے طور پر تھا کیونکہ عموماً جرائم پیشہ لوگوں کو صدقہ نہیں دیا جاتا، مگر شرعاً ایسی کوئی پابندی نہیں۔ ممکن ہے ان سے تعاون ان کی اصلاح کا سبب بن جائے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2524]

Sunan an-Nasa'i Hadith 2524 in Urdu