🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
59. باب : فضل الصدقة
باب: صدقہ کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2542
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْتَمَعْنَ عِنْدَهُ، فَقُلْنَ: أَيَّتُنَا بِكَ أَسْرَعُ لُحُوقَا؟ فَقَالَ:" أَطْوَلُكُنَّ يَدًا" , فَأَخَذْنَ قَصَبَةً، فَجَعَلْنَ يَذْرَعْنَهَا، فَكَانَتْ سَوْدَةُ أَسْرَعَهُنَّ بِهِ لُحُوقًا، فَكَانَتْ أَطْوَلَهُنَّ يَدًا، فَكَانَ ذَلِكَ مِنْ كَثْرَةِ الصَّدَقَةِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محترم بیویاں (ازواج مطہرات) آپ کے پاس اکٹھا ہوئیں، اور پوچھنے لگیں کہ ہم میں کون آپ سے پہلے ملے گی؟ آپ نے فرمایا: تم میں سب سے لمبے ہاتھ والی، ازواج مطہرات ایک بانس کی کھپچی لے کر ایک دوسرے کا ہاتھ ناپنے لگیں، تو وہ ام المؤمنین سودہ رضی اللہ عنہا تھیں جو سب سے پہلے آپ سے ملیں، وہی سب میں لمبے ہاتھ والی تھیں، یہ ان کے بہت زیادہ صدقہ و خیرات کرنے کی وجہ سے تھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2542]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة11 (1420)، (تحفة الأشراف: 17619)، مسند احمد (6/121) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ کی بیویوں میں سب سے پہلے انہیں کا انتقال ہوا، وہ لمبے ہاتھ والی اس معنی میں تھیں کہ وہ بہت زیادہ صدقہ و خیرات کرتی تھیں، بعض روایتوں میں سودہ کے بجائے زینب کا نام آیا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥مسروق بن الأجدع الهمداني، أبو عائشة
Newمسروق بن الأجدع الهمداني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← مسروق بن الأجدع الهمداني
ثقة
👤←👥فراس بن يحيى الهمداني، أبو يحيى
Newفراس بن يحيى الهمداني ← عامر الشعبي
ثقة
👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة
Newالوضاح بن عبد الله اليشكري ← فراس بن يحيى الهمداني
ثقة ثبت
👤←👥يحيى بن حماد الشيباني، أبو محمد، أبو زكريا، أبو بكر
Newيحيى بن حماد الشيباني ← الوضاح بن عبد الله اليشكري
ثقة
👤←👥سليمان بن سيف الطائي، أبو داود
Newسليمان بن سيف الطائي ← يحيى بن حماد الشيباني
ثقة حافظ
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2542 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2542
اردو حاشہ:
(1) یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات کی بات ہے۔ اور یہ سوال کرنے والی حضرت عائشہؓ خود تھیں۔
(2) یہ روایت مختصر ہے۔ اصل صورت واقعہ یہ ہے کہ ہاتھ ماپنے سے معلوم ہوا کہ حضرت سودہؓ کے ہاتھ لمبے ہیں، لہٰذا سب کا خیال تھا کہ وہی پہلے فوت ہوں گی۔ ویسے بھی وہ عمر کے لحاظ سے سب سے بڑی تھیں، مگر اتفاق ایسا ہوا کہ حضرت زینب بنت جحشؓ پہلے فوت ہوگئیں۔ تو غور کرنے سے پتا چلا کہ ہاتھوں کی طوالت سے مراد ظاہری طوالت نہیں بلکہ صدقے کی کثرت تھی۔ (جس طرح ہم سخی شخص کو کھلے ہاتھوں والا کہہ دیتے ہیں) حضرت زینبؓ سخی خاتون تھیں۔ ویسے وہ قد کے لحاظ سے چھوٹی تھیں جبکہ حضرت سودہؓ بڑے قد کاٹھ کی مالک تھیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہو۔ ترجمے میں قوسین وغیرہ کے ذریعہ سے کوشش کی گئی ہے کہ روایت اصل صورت حال کے مطابق ہو جائے ورنہ روایت کے ظاہر الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سودہؓ سب سے پہلے فوت ہوگئیں، حالانکہ یہ بات تاریخی لحاظ سے غلط ہے۔ حضرت سودہؓ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں 54 ہجری میں فوت ہوئیں اور حضرت زینبؓ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں 30 ہجری میں ازواج مطہرات میں سب سے پہلے فوت ہوئیں۔ یہ بات تاریخی طور پر متفق عطیہ ہے۔ اور بعض احادیث میں بھی یہ تفصیل ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2542]