سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
94. باب : من آتاه الله عز وجل مالا من غير مسألة
باب: جس شخص کو اللہ تعالیٰ بغیر مانگے مال دے دے۔
حدیث نمبر: 2609
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا فَقُلْتُ لَهُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي فَقَالَ:" خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ وَتَصَدَّقْ بِهِ، وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ، وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطیہ دیتے تو میں کہتا: آپ اسے اس شخص کو دے دیجئیے جو مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو۔ یہاں تک کہ ایک بار آپ نے مجھے کچھ مال دیا تو میں نے آپ سے عرض کیا: اسے اس شخص کو دے دیجئیے جو مجھ سے زیادہ اس کا حاجت مند ہو، تو آپ نے فرمایا: ”تم لے لو، اور اس کے مالک بن جاؤ، اور اسے صدقہ کر دو، اور جو مال تمہیں اس طرح ملے کہ تم نے اسے مانگا نہ ہو اور اس کی لالچ کی ہو تو اسے قبول کر لو، اور جو اس طرح نہ ملے اس کے پیچھے اپنے آپ کو نہ ڈالو“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2609]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی عطیہ عنایت فرماتے تو میں کہہ دیا کرتا تھا کہ یہ کسی ایسے شخص کو دے دیجیے جسے مجھ سے زیادہ اس کی ضرورت ہو، حتیٰ کہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ مال دیا تو میں نے کہہ دیا: کسی ایسے شخص کو دے دیجیے جو مجھ سے زیادہ فقیر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لے لے، اسے استعمال بھی کر اور صدقہ بھی کر۔ یہ مال اگر تیرے پاس خود بخود آئے، تجھے نہ تو اس کی طمع ہو اور نہ تو نے مانگا ہو تو اسے لے لیا کر اور جو اپنے آپ نہ ملے، اس کے پیچھے اپنے آپ کو نہ لگا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2609]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 51 (1473)، الأحکام 17 (7164)، صحیح مسلم/الزکاة 37 (1045)، تحفة الأشراف: 10520)، مسند احمد (1/21، سنن الدارمی/الزکاة 19 (1688) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
الرواة الحديث:
Sunan an-Nasa'i Hadith 2609 in Urdu
عبد الله بن عمر العدوي ← عمر بن الخطاب العدوي