🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب : وجوب الحج
باب: حج کی فرضیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2621
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُوسَى بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَلِيلِ بْنُ حُمَيْد، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عنْ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى كَتَبَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ" , فَقَالَ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِيمِيّ: كُلُّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَسَكَتَ، فَقَال:" لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ ثُمَّ إِذًا لَا تَسْمَعُونَ وَلَا تُطِيعُونَ وَلَكِنَّهُ حَجَّةٌ وَاحِدَةٌ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے، تو اقرع بن حابس تمیمی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ہر سال؟ اللہ کے رسول! آپ خاموش رہے، پھر آپ نے بعد میں فرمایا: اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال (حج) فرض ہو جاتا، پھر نہ تم سنتے اور نہ اطاعت کرتے، لیکن حج ایک بار ہی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2621]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خطبے کے لیے) کھڑے ہوئے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض فرما دیا ہے۔ حضرت اقرع بن حابس تمیمی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! کیا ہر سال؟ آپ خاموش ہو گئے، پھر فرمایا: اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال واجب ہو جاتا، پھر نہ تم سنتے اور نہ اطاعت کرتے۔ حج صرف ایک ہی (دفعہ فرض) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2621]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج 1 (1721) مختصرا، سنن ابن ماجہ/ الحج 2 (2886)، (تحفة الأشراف: 6556)، مسند احمد (1/255، 290، 352، 370، 371)، سنن الدارمی/المناسک 4 (1795) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥يزيد بن أمية الدؤلي، أبو سنان
Newيزيد بن أمية الدؤلي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← يزيد بن أمية الدؤلي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥عبد الجليل بن حميد اليحصبي، أبو مالك
Newعبد الجليل بن حميد اليحصبي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥موسى بن سلمة المصري
Newموسى بن سلمة المصري ← عبد الجليل بن حميد اليحصبي
مقبول
👤←👥سعيد بن أبي مريم الجمحي، أبو محمد
Newسعيد بن أبي مريم الجمحي ← موسى بن سلمة المصري
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← سعيد بن أبي مريم الجمحي
ثقة حافظ جليل
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
2621
الله كتب عليكم الحج فقال الأقرع بن حابس التميمي كل عام يا رسول الله
سنن أبي داود
1721
مرة واحدة فمن زاد فهو تطوع
سنن ابن ماجه
2886
بل مرة واحدة فمن استطاع فتطوع
بلوغ المرام
589
لو قلتها لوجبت الحج مرة فما زاد فهو تطوع
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2621 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2621
اردو حاشہ:
نہ سنتے اور نہ اطاعت کرتے۔ یعنی اس پر عمل کرنا تمھاری طاقت میں نہ ہوتا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2621]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 589
حج کی فضیلت و فرضیت کا بیان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے۔ اس پر اقرع بن حابس کھڑے ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کیا ہر سال، اے اللہ کے رسول!؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں ہاں کہ دیتا تو یہ (ہر سال کے لیے) فرض ہو جاتا۔ حج ایک بار ہے اور اس سے جو زائد ہے وہ نفل ہے۔ اسے ترمذی کے علاوہ پانچوں نے روایت کیا ہے اور اس کی اصل مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 589]
589 فوائد و مسائل:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ حج عمر بھر میں صرف ایک بار فرض ہے، اس سے زائد نفل ہے۔
➋ اس روایت میں جو یہ مذکور ہے کہ اگر میں ہر سال حج فرض ہونے کا کہہ دیتا تو ہر سال حج فرض ہو جاتا، اس سے بعض علماء کا خیال ہے کہ احکام شرعیہ کا تقرر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی مرضی سے کر سکتے تھے لیکن اکثر علماء اس قول کو درست نہیں سمجھتے اور یہی موقف درست ہے۔
➌ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تشریعی حکم اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی رضا پر ہی موقوف ہوتا تھا۔ اس اصولی اختلاف کی تفصیل اصول و عقائد کی کتابوں میں موجود ہے جس کا یہاں ذکر کرنا غیر ضروری ہے۔

وضاحت:
حضرت اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ، یہ قبیلہ تمیم سے تعلق رکھتے تھے۔ فتح مکہ کے بعد بنوتمیم کا جو وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا، اس میں شامل تھے۔ مؤلفۃ القلوب میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ جاہلیت اور اسلام میں اپنے قبیلے کے سردار تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ان کا انتقال ہوا۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 589]

Sunan an-Nasa'i Hadith 2621 in Urdu