سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
163. باب : القول بعد ركعتى الطواف
باب: طواف کی دو رکعت پڑھنے کے بعد کیا کہے؟
حدیث نمبر: 2964
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، رَمَلَ مِنْهَا ثَلَاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا، ثُمَّ قَامَ عِنْدَ الْمَقَامِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَرَأَ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 , وَرَفَعَ صَوْتَهُ يُسْمِعُ النَّاسَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَاسْتَلَمَ، ثُمَّ ذَهَبَ، فَقَالَ: نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ، فَبَدَأَ بِالصَّفَا، فَرَقِيَ عَلَيْهَا حَتَّى بَدَا لَهُ الْبَيْتُ، فَقَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، فَكَبَّرَ اللَّهَ وَحَمِدَهُ، ثُمَّ دَعَا بِمَا قُدِّرَ لَهُ، ثُمَّ نَزَلَ مَاشِيًا حَتَّى تَصَوَّبَتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْمَسِيلِ، فَسَعَى حَتَّى صَعِدَتْ قَدَمَاهُ، ثُمَّ مَشَى حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ فَصَعِدَ فِيهَا، ثُمَّ بَدَا لَهُ الْبَيْتُ، فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، قَالَ: ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ ذَكَرَ اللَّهَ وَسَبَّحَهُ، وَحَمِدَهُ، ثُمَّ دَعَا عَلَيْهَا بِمَا شَاءَ اللَّهُ، فَعَلَ هَذَا حَتَّى فَرَغَ مِنَ الطَّوَافِ".
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے سات پھیرے کئے ان میں سے تین میں رمل کیا اور چار میں عام چال چلے پھر مقام ابراہیم کے پاس کھڑے ہو کر دو رکعات پڑھیں، پھر آپ نے آیت کریمہ: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ”مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ“ پڑھی اور اپنی آواز بلند کی آپ لوگوں کو سنا رہے تھے۔ پھر آپ وہاں سے پلٹے اور جا کر حجر اسود کا استلام کیا اور فرمایا: کہ ہم وہیں (سعی) شروع کریں گے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے (اپنی کتاب میں) شروع کی ہے، تو آپ نے صفا سے سعی شروع کی اور اس پر چڑھے یہاں تک کہ آپ کو بیت اللہ دکھائی دینے لگا تو آپ نے تین مرتبہ «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» کہا، پھر آپ نے اللہ کی تکبیر اور تحمید کی۔ اور دعا کی جواب آپ کے لیے مقدر تھی، پھر آپ پیدل چل کر نیچے اترے یہاں تک کہ آپ کے دونوں قدم وادی کے نشیب میں رہے پھر دوڑے یہاں تک کہ آپ کے دونوں قدم بلندی پر چڑھے، پھر عام چال چلے یہاں تک کہ مروہ کے پاس آئے اور اس پر چڑھے پھر خانہ کعبہ آپ کو دکھائی دینے لگا تو آپ نے «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» تین بار کہا۔ پھر اللہ کا ذکر کیا اور اس کی تسبیح و تحمید کی۔ اور دعا کی جو اللہ کو منظور تھی ہر بار ایسا ہی کیا یہاں تک کہ سعی سے فارغ ہوئے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2964]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے سات چکر لگائے، ان میں سے (پہلے) تین چکروں میں رمل کیا اور چار چکروں میں آرام سے چلے، پھر مقامِ ابراہیم کے پاس کھڑے ہوئے اور دو رکعات پڑھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى﴾ [سورة البقرة: 125] ”تم مقامِ ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو سنانے کے لیے یہ الفاظ بلند آواز سے ادا فرمائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (حجرِ اسود کی طرف) گئے، اسے بوسہ دیا، پھر (صفا مروہ کی طرف) چلے اور فرمایا: ”ہم اسی جگہ سے ابتدا کریں گے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے پہلے کیا ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہِ صفا سے ابتدا کی، اس پر چڑھے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ نظر آنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار یہ کلمات پڑھے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ کے سوا کوئی (سچا) معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، حکومت اور تعریف اسی کی ہے، وہی زندگی دیتا ہے اور موت دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیریں کہیں اور اللہ تعالیٰ کی حمد کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائیں فرمائیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مقدر کی تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے نیچے اترے حتیٰ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک نشیب میں جا گزیں ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوڑنے لگے حتیٰ کہ (مروہ کی) چڑھائی شروع ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم آرام سے چلنے لگے حتیٰ کہ مروہ پہنچ گئے، تو اس پر چڑھتے رہے، پھر جب بیت اللہ نظر آنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات ادا فرمائے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہی اور تعریف اسی کی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات تین بار پڑھے، پھر اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا اور سبحان اللہ اور الحمد للہ پڑھتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دعائیں فرمائیں جو اللہ نے چاہیں، (پھر) اسی طرح کیا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (صفا مروہ کے) چکروں سے فارغ ہو گئے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2964]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الحروف 1 (3969)، سنن الترمذی/الحج 33 (856)، 38 (862)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 56 (1008)، (تحفة الأشراف: 2595)، ویأتي عند المؤلف برقم: 2977 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2964 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2964
اردو حاشہ:
امام نسائی رحمہ اللہ کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ طواف کی دو رکعتوں کے بعد مذکورہ بالا آیت پڑھنا مسنون ہے اگرچہ کہا جا سکتا ہے کہ آپ کا یہ آیت پڑھنا بطور استدلال تھا کہ اس سے مراد طواف کی دو رکعتیں ہیں۔ یہی صحیح ہے۔ اسی لیے علماء نے دو رکعتوں کے بعد اس آیت کے پڑھنے کو مسنون نہیں لکھا، نیز بعض روایات میں منقول ہے کہ آپ نے یہ آیت دو رکعتوں سے پہلے پڑھی تھی۔ دیکھیے: (صحیح مسلم، الحج، حدیث: 1218، وسنن النسائي، مناسك الحج، حدیث: 2965، 2966) یاد رہے صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر لگائے جاتے ہیں مگر صفا سے مروہ تک آنا ایک چکر شمار ہوتا ہے اور مروہ سے صفا پر آنا دوسرا چکر۔ اس طرح مروہ پر ساتواں چکر پورا ہوگا۔
امام نسائی رحمہ اللہ کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ طواف کی دو رکعتوں کے بعد مذکورہ بالا آیت پڑھنا مسنون ہے اگرچہ کہا جا سکتا ہے کہ آپ کا یہ آیت پڑھنا بطور استدلال تھا کہ اس سے مراد طواف کی دو رکعتیں ہیں۔ یہی صحیح ہے۔ اسی لیے علماء نے دو رکعتوں کے بعد اس آیت کے پڑھنے کو مسنون نہیں لکھا، نیز بعض روایات میں منقول ہے کہ آپ نے یہ آیت دو رکعتوں سے پہلے پڑھی تھی۔ دیکھیے: (صحیح مسلم، الحج، حدیث: 1218، وسنن النسائي، مناسك الحج، حدیث: 2965، 2966) یاد رہے صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر لگائے جاتے ہیں مگر صفا سے مروہ تک آنا ایک چکر شمار ہوتا ہے اور مروہ سے صفا پر آنا دوسرا چکر۔ اس طرح مروہ پر ساتواں چکر پورا ہوگا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2964]
Sunan an-Nasa'i Hadith 2964 in Urdu
محمد الباقر ← جابر بن عبد الله الأنصاري