سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
177. باب : السعى في بطن المسيل
باب: صفا مروہ میں وادی کے نشیبی حصہ کو دوڑ کر طے کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2983
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ امْرَأَةٍ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى فِي بَطْنِ الْمَسِيلِ، وَيَقُولُ:" لَا يُقْطَعُ الْوَادِي إِلَّا شَدًّا".
صفیہ بنت شیبہ ایک عورت سے روایت کرتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وادی کے نشیبی حصہ کو دوڑ کر طے کرتے ہوئے دیکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”یہ وادی دوڑ کر ہی پار کی جائے گی“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2983]
ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وادی کے پیٹ میں دوڑتے دیکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اس وادی کو ضرور دوڑ کر طے کیا جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2983]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الحج 43 (2987)، (تحفة الأشراف: 18382)، مسند احمد (6/404، 405) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اب اس حصے پر دو سبز پتھر لگا دیئے گئے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2983 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2983
اردو حاشہ:
وادی کے پیٹ سے مراد صفا اور مروہ کے درمیان سبز روشنیوں کے مابین نشیبی جگہ ہے، یعنی دونوں پہاڑوں کی چڑھائی کے درمیان والی جگہ۔ بارش وغیرہ کی صورت میں اس جگہ پانی بہتا تھا، اس لیے اسے وادی یا مسیل کہا گیا۔ آج کل اسے ملین اخضرین کہا جاتا ہے۔
وادی کے پیٹ سے مراد صفا اور مروہ کے درمیان سبز روشنیوں کے مابین نشیبی جگہ ہے، یعنی دونوں پہاڑوں کی چڑھائی کے درمیان والی جگہ۔ بارش وغیرہ کی صورت میں اس جگہ پانی بہتا تھا، اس لیے اسے وادی یا مسیل کہا گیا۔ آج کل اسے ملین اخضرین کہا جاتا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2983]
Sunan an-Nasa'i Hadith 2983 in Urdu
صفية بنت شيبة القرشية ← اسم مبهم