پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب : وجوب الجهاد
باب: جہاد کی فرضیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3088
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبِي، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَأَصْحَابًا لَهُ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا فِي عِزٍّ وَنَحْنُ مُشْرِكُونَ، فَلَمَّا آمَنَّا صِرْنَا أَذِلَّةً فَقَالَ:" إِنِّي أُمِرْتُ بِالْعَفْوِ فَلَا تُقَاتِلُوا، فَلَمَّا حَوَّلَنَا اللَّهُ إِلَى الْمَدِينَةِ أَمَرَنَا بِالْقِتَالِ فَكَفُّوا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلاةَ سورة النساء آية 77".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اور ان کے کچھ دوست نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب آپ مکہ میں تشریف فرما تھے آئے، اور انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! جب ہم مشرک تھے عزت سے تھے، اور جب سے ایمان لے آئے ذلیل و حقیر ہو گئے۔ آپ نے فرمایا: ”مجھے عفو و درگزر کا حکم ملا ہوا ہے۔ تو (جب تک لڑائی کا حکم نہ مل جائے) لڑائی نہ کرو“، پھر جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں مدینہ بھیج دیا، اور ہمیں جنگ کا حکم دے دیا۔ تو لوگ (بجائے اس کے کہ خوش ہوتے) باز رہے (ہچکچائے، ڈرے) تب اللہ تعالیٰ نے آیت: «ألم تر إلى الذين قيل لهم كفوا أيديكم وأقيموا الصلاة» ”کیا تم نے انہیں نہیں دیکھا جنہیں حکم کیا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو، اور نمازیں پڑھتے رہو، اور زکاۃ ادا کرتے رہو۔ پھر جب انہیں جہاد کا حکم دیا گیا تو اسی وقت ان کی ایک جماعت لوگوں سے اس قدر ڈرنے لگی جیسے اللہ تعالیٰ کا ڈر ہو، بلکہ اس سے بھی زیادہ اور کہنے لگے: اے ہمارے رب! تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کر دیا؟ کیوں ہمیں تھوڑی سی زندگی اور نہ جینے دی؟ آپ کہہ دیجئیے کہ دنیا کی سود مندی تو بہت ہی کم ہے اور پرہیزگاروں کے لیے تو آخرت ہی بہتر ہے اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ستم روا نہ رکھا جائے گا (النساء: ۷۷) اخیر تک نازل فرمائی۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3088]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور ان کے کچھ ساتھی مکہ مکرمہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہم کافر مشرک تھے تو عزت والے تھے، جب ہم مسلمان ہوئے تو ذلیل ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(فی الحال) مجھے معاف اور درگزر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، لہٰذا تم لڑائی نہ کرو۔“ پھر جب ہم اللہ تعالیٰ کے حکم سے مدینہ منورہ پہنچ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں لڑنے کا حکم دیا، لیکن بعض مسلمان لڑائی سے رکے رہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ﴾ [سورة النساء: 77] ”(اے نبی!) کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ تم اپنے ہاتھ (لڑائی سے) روکے رکھو اور نماز قائم کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3088]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6171) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3088 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3088
اردو حاشہ:
: ”ذلیل ہوگئے“ یعنی ہم کفر کی حالت میں تو ظلم کا بدلہ لے لیا کرتے تھے۔ اب ہمیں ظلم کے سامنے ہاتھ اٹھانے اور ظلم کا بدلہ لینے کی اجازت نہیں۔ اور ظاہراً یہ ذلالت والی حالت ہے کہ انسان دوسروں کے لیے تختہ مشق بنا رہے، لیکن شریعت کا یہ حکم ایک عظیم مصلحت کی بنا پر تھا۔ اگر اس وقت مسلمانوں کو مزاحمت یا جوابی جارحیت کی اجازت دی جاتی تو اسلام کی نوزائیدہ تحریک اور اس کے قیمتی کارکن ختم ہوجاتے جب کہ صبروعفو کا حکم دے کر ان کی قوت برداشت کو انتہائی حد تک بڑھا دیا گیا اور وہ آئندہ دور میں جنگوں کی سختی کو حیران کن حد تک برداشت کرنے کے قابل بن گئے اور ان کی اخلاقی تربیت بھی درجہ کمال کو پہنچ گئی۔
: ”ذلیل ہوگئے“ یعنی ہم کفر کی حالت میں تو ظلم کا بدلہ لے لیا کرتے تھے۔ اب ہمیں ظلم کے سامنے ہاتھ اٹھانے اور ظلم کا بدلہ لینے کی اجازت نہیں۔ اور ظاہراً یہ ذلالت والی حالت ہے کہ انسان دوسروں کے لیے تختہ مشق بنا رہے، لیکن شریعت کا یہ حکم ایک عظیم مصلحت کی بنا پر تھا۔ اگر اس وقت مسلمانوں کو مزاحمت یا جوابی جارحیت کی اجازت دی جاتی تو اسلام کی نوزائیدہ تحریک اور اس کے قیمتی کارکن ختم ہوجاتے جب کہ صبروعفو کا حکم دے کر ان کی قوت برداشت کو انتہائی حد تک بڑھا دیا گیا اور وہ آئندہ دور میں جنگوں کی سختی کو حیران کن حد تک برداشت کرنے کے قابل بن گئے اور ان کی اخلاقی تربیت بھی درجہ کمال کو پہنچ گئی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3088]
Sunan an-Nasa'i Hadith 3088 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي