🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. بَابُ : فَضْلِ مَنْ عَمِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَلَى قَدَمِهِ
باب: اللہ کے راستے میں پیدل چل کر کام کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3109
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" لَا يَبْكِي أَحَدٌ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ، فَتَطْعَمَهُ النَّارُ حَتَّى يُرَدَّ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ، وَلَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي مَنْخَرَيْ مُسْلِمٍ أَبَدًا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے خوف سے رونے والے کو جہنم کی آگ اس وقت تک لقمہ نہیں بنا سکتی جب تک کہ (تھن سے نکلا ہوا) دودھ تھن میں واپس نہ پہنچا دیا جائے ۱؎، اور کسی مسلمان کے نتھنے میں جہاد کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں کبھی اکٹھا نہیں ہو سکتے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3109]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے ڈر سے روتا ہے، اسے آگ نہیں لگے گی، حتیٰ کہ (دوہا ہوا) دودھ دوبارہ پستان میں چلا جائے۔ اور یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی مسلمان کے نتھنوں میں اللہ کے راستے میں (جہاد کرتے ہوئے زمین اسے اڑانے والا) غبار اور جہنم کا دھواں دونوں جمع ہوجائیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3109]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/فضائل الجہاد 8 (1633)، والزہد 8 (2311)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 9 (2774)، (تحفة الأشراف: 14285)، مسند احمد (2/298، 454) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی نہ کبھی دودھ تھن میں پہنچایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اللہ کے خوف سے رونے والا کبھی جہنم میں ڈالا جائے گا۔ ۲؎: یعنی مجاہد فی سبیل اللہ جنت ہی میں جائے گا جہنم میں نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عيسى بن طلحة القرشي، أبو محمد
Newعيسى بن طلحة القرشي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الرحمن القرشي
Newمحمد بن عبد الرحمن القرشي ← عيسى بن طلحة القرشي
ثقة
👤←👥مسعر بن كدام العامري، أبو سلمة
Newمسعر بن كدام العامري ← محمد بن عبد الرحمن القرشي
ثقة ثبت
👤←👥جعفر بن عون القرشي، أبو عون
Newجعفر بن عون القرشي ← مسعر بن كدام العامري
ثقة
👤←👥أحمد بن سليمان الرهاوي، أبو الحسين
Newأحمد بن سليمان الرهاوي ← جعفر بن عون القرشي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
3109
لا يبكي أحد من خشية الله فتطعمه النار حتى يرد اللبن في الضرع ولا يجتمع غبار في سبيل الله ودخان جهنم في منخري مسلم أبدا
سنن النسائى الصغرى
3110
لا يلج النار رجل بكى من خشية الله حتى يعود اللبن في الضرع ولا يجتمع غبار في سبيل الله ودخان نار جهنم
جامع الترمذي
1633
لا يلج النار رجل بكى من خشية الله حتى يعود اللبن في الضرع ولا يجتمع غبار في سبيل الله ودخان جهنم
جامع الترمذي
2311
لا يلج النار رجل بكى من خشية الله حتى يعود اللبن في الضرع ولا يجتمع غبار في سبيل الله ودخان جهنم
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3109 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3109
اردو حاشہ:
”حتیٰ کہ دودھ“ اور یہ نا ممکن بات ہے، عقلاً بھی عادتاً بھی۔ مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ڈرسے رونے والے کا جہنم میں جانا نا ممکن ہے۔ اسی طرح خلوص سے جہاد کرنے والا ہرگز جہنم میں نہیں جا سکتا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3109]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1633
جہاد کے غبار کی فضیلت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ڈر سے رونے والا جہنم میں داخل نہیں ہو گا یہاں تک کہ دودھ تھن میں واپس لوٹ جائے، (اور یہ محال ہے) اور جہاد کا غبار اور جہنم کا دھواں ایک ساتھ جمع نہیں ہوں گے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل الجهاد/حدیث: 1633]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی جس طرح دنیا وآخرت ایک دوسرے کی ضد ہیں کہ دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے،
اسی طرح راہ جہاد کا غبار اور جہنم کا دھواں ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1633]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2311
اللہ تعالیٰ کے ڈر سے رونے کی فضیلت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے خوف اور ڈر سے رونے والا شخص جہنم میں نہیں جا سکتا جب تک کہ دودھ تھن میں واپس نہ پہنچ جائے اور اللہ کی راہ کا گرد و غبار اور جہنم کا دھواں دونوں اکٹھا نہیں ہو سکتے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2311]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ نہ کبھی دودھ تھن میں واپس ہوگا اورنہ ہی اللہ کے خوف سے رونے والا جہنم میں ڈالا جائے گا،
اسی طرح راہ جہاد میں نکلنے والا بھی جہنم میں نہیں جا سکتا،
کیونکہ جہاد مجاہدکے لیے جہنم سے نجات کا ذریعہ ہے،
معلوم ہوا کہ جہاد کی بڑی فضیلت ہے،
لیکن یہ ثواب اس مجاہد کے لیے ہے جو کبیرہ گناہوں سے بچتا رہا ہو۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2311]

Sunan an-Nasa'i Hadith 3109 in Urdu