یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب : مسألة الشهادة
باب: (اللہ کے راستے میں) شہادت مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3165
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْحَضْرَمِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ حُجَيْرَةَ يُخْبِرُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" خَمْسٌ مَنْ قُبِضَ فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ فَهُوَ شَهِيدٌ: الْمَقْتُولُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ، وَالْغَرِقُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ، وَالْمَبْطُونُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ، وَالْمَطْعُونُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ، وَالنُّفَسَاءُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ".
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ حالتیں ہیں ان میں سے کسی بھی ایک حالت پر مرنے والا شہید ہو گا، اللہ کے راستے (جہاد) میں نکلا اور قتل ہو گیا تو وہ شہید ہے، جہاد میں نکلا اور ڈوب کر مر گیا تو وہ شہید ہے، جہاد میں نکلا اور دست میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو گیا تو وہ بھی شہید ہے، جہاد میں نکلا اور طاعون میں مبتلا ہو کر مر گیا وہ بھی شہید ہے، عورت (شوہر کے ساتھ جہاد میں نکلی ہے) حالت نفاس میں مر گئی تو وہ بھی شہید ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3165]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ حالتیں ایسی ہیں کہ جو شخص بھی ان میں فوت ہو وہ شہید ہو گا: جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں مارا جائے وہ شہید ہے، جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں غرق ہو وہ شہید ہے، جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں پیٹ کی تکلیف سے مر جائے وہ شہید ہے، اور جو عورت اللہ تعالیٰ کے راستے میں زچگی سے مر جائے وہ بھی شہید ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3165]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9931) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3165 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3165
اردو حاشہ:
اس روایت میں ہر شہید کے لیے فی سبیل اللّٰہ کی قید لگائی گئی ہے جب کہ دیگر روایات میں یہ قید ذکر نہیں‘ س لیے بہتر ہے کہ فی سبیل اللہ کو عام سمجھا جائے‘ یعنی وہ مسلمان ہ وکیونکہ ہر مسلمان اللہ تعالیٰ کے راستے کا راہی ہے۔ البتہ حقیقی شہید وہی ہے جو جہاد کرتا ہوا مارا جائے۔ اس کے علاوہ جنہیں شہید کہاگیا ہے‘ وہ حکماً شہید ہیں‘ یعنی ان کی موت انتہائی تکلیف دہ اور ا چانک ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمادے گا۔ اور انہیں شہیدوں والا رتبہ واجر عطا فرمائے گا۔
اس روایت میں ہر شہید کے لیے فی سبیل اللّٰہ کی قید لگائی گئی ہے جب کہ دیگر روایات میں یہ قید ذکر نہیں‘ س لیے بہتر ہے کہ فی سبیل اللہ کو عام سمجھا جائے‘ یعنی وہ مسلمان ہ وکیونکہ ہر مسلمان اللہ تعالیٰ کے راستے کا راہی ہے۔ البتہ حقیقی شہید وہی ہے جو جہاد کرتا ہوا مارا جائے۔ اس کے علاوہ جنہیں شہید کہاگیا ہے‘ وہ حکماً شہید ہیں‘ یعنی ان کی موت انتہائی تکلیف دہ اور ا چانک ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمادے گا۔ اور انہیں شہیدوں والا رتبہ واجر عطا فرمائے گا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3165]
Sunan an-Nasa'i Hadith 3165 in Urdu
عبد الرحمن بن حجيرة الخولاني ← عقبة بن عامر الجهني