سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب : إباحة النظر قبل التزويج
باب: نکاح سے پہلے عورت کو دیکھنے کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 3236
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَطَبَ رَجُلٌ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا؟ قَالَ: لَا، فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ایک انصاری عورت کو شادی کا پیغام دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تم نے اسے دیکھ لیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”اسے دیکھ لو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3236]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/النکاح 12 (1424)، (تحفة الأشراف: 13446)، مسند احمد (3/286، 299) ویأتي عند المؤلف برقم 3248، 3249) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی بغیر دیکھے نکاح کرنا اچھا نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥سلمان مولى عزة، أبو حازم سلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥يزيد بن كيسان اليشكري، أبو إسماعيل، أبو منين يزيد بن كيسان اليشكري ← سلمان مولى عزة | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥مروان بن معاوية الفزاري، أبو عبد الله مروان بن معاوية الفزاري ← يزيد بن كيسان اليشكري | ثقة حافظ وكان يدلس أسماء الشيوخ | |
👤←👥دحيم القرشي، أبو سعيد دحيم القرشي ← مروان بن معاوية الفزاري | ثقة حافظ متقن |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3236 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3236
اردو حاشہ:
عورت کو تَلَذُّذ کی خاطر دیکھنا منع ہے۔ کسی ضرورت کی خاطر منع نہیں۔ نکاح ایک اہم ضرورت ہے، نیز ساری زندگی کا ساتھ ہے، اس لیے کسی ممکنہ بدمزگی سے بچنے کے لیے مناسب ہے کہ پہلے اسے دیکھ لیا جائے۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ان کا گھر جا کر مطالبہ کرے، بلکہ کسی حیلے بہانے سے دیکھ لیا جائے۔ یا پھر گھریلو عورتوں کے ذریعے سے دیکھنے دکھانے اور دیگر ضروری معلومات حاصل کرنے کا مسئلہ حل کرلیا جائے۔
عورت کو تَلَذُّذ کی خاطر دیکھنا منع ہے۔ کسی ضرورت کی خاطر منع نہیں۔ نکاح ایک اہم ضرورت ہے، نیز ساری زندگی کا ساتھ ہے، اس لیے کسی ممکنہ بدمزگی سے بچنے کے لیے مناسب ہے کہ پہلے اسے دیکھ لیا جائے۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ان کا گھر جا کر مطالبہ کرے، بلکہ کسی حیلے بہانے سے دیکھ لیا جائے۔ یا پھر گھریلو عورتوں کے ذریعے سے دیکھنے دکھانے اور دیگر ضروری معلومات حاصل کرنے کا مسئلہ حل کرلیا جائے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3236]
سلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي