🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
63. باب : التزويج على الإسلام
باب: اسلام قبول کر لینے کی شرط پر شادی کر لینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3343
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ مُسَاوِرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" خَطَبَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ، فَقَالَتْ: وَاللَّهِ مَا مِثْلُكَ يَا أَبَا طَلْحَةَ يُرَدُّ وَلَكِنَّكَ رَجُلٌ كَافِرٌ، وَأَنَا امْرَأَةٌ مُسْلِمَةٌ، وَلَا يَحِلُّ لِي أَنْ أَتَزَوَّجَكَ، فَإِنْ تُسْلِمْ، فَذَاكَ مَهْرِي وَمَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ، فَأَسْلَمَ فَكَانَ ذَلِكَ مَهْرَهَا، قَالَ ثَابِتٌ: فَمَا سَمِعْتُ بِامْرَأَةٍ قَطُّ كَانَتْ أَكْرَمَ مَهْرًا مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ الْإِسْلَامَ فَدَخَلَ بِهَا فَوَلَدَتْ لَهُ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے (ان کی والدہ) ام سلیم رضی اللہ عنہا کو شادی کا پیغام دیا تو انہوں نے انہیں جواب دیا: قسم اللہ کی، ابوطلحہ! آپ جیسوں کا پیغام لوٹایا نہیں جا سکتا، لیکن آپ ایک کافر شخص ہیں اور میں ایک مسلمان عورت ہوں، میرے لیے حلال نہیں کہ میں آپ سے شادی کروں، لیکن اگر آپ اسلام قبول کر لیں، تو یہی آپ کا اسلام قبول کر لینا ہی میرا مہر ہو گا اس کے سوا مجھے کچھ اور نہیں چاہیئے ۱؎ تو وہ اسلام لے آئے اور یہی چیز ان کی مہر قرار پائی۔ ثابت کہتے ہیں: میں نے کسی عورت کے متعلق کبھی نہیں سنا جس کی مہر ام سلیم رضی اللہ عنہا کی مہر اسلام سے بڑھ کر اور باعزت رہی ہو۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے صحبت و قربت اختیار کی اور انہوں نے ان سے بچے جنے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3343]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام بھیجا تو انہوں نے کہا: اے ابو طلحہ! اللہ کی قسم! تیرے جیسے شخص کا پیغام رد نہیں کیا جا سکتا لیکن تو کافر ہے اور میں اسلام لا چکی ہوں۔ میرے لیے تجھ سے نکاح کرنا جائز نہیں۔ اگر تو مسلمان ہو جائے تو یہی میرا مہر ہو گا اور میں تجھ سے اس کے علاوہ کوئی مہر نہ مانگوں گی۔ وہ مسلمان ہو گئے اور ان کا اسلام ہی حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کا مہر قرار پایا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے شاگرد حضرت ثابت رحمہ اللہ نے کہا: میں نے کسی اور عورت کے بارے میں نہیں سنا کہ اس کا مہر حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے مہرِ اسلام سے بہتر ہو۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ زندگی گزار دی اور ان سے ان کے بچے بھی ہوئے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3343]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 278) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اسلام لانے کے بعد مہر معجل کا مطالبہ نہیں کروں گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد
Newثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥جعفر بن سليمان الضبعي، أبو سليمان
Newجعفر بن سليمان الضبعي ← ثابت بن أسلم البناني
صدوق يتشيع
👤←👥محمد بن النضر المروزي
Newمحمد بن النضر المروزي ← جعفر بن سليمان الضبعي
صدوق حسن الحديث
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3343 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3343
اردو حاشہ:
یہ حدیث صریح ہے کہ اسلام کے علاوہ کوئی اور مہر نہ تھا۔ گویا عورت راضی ہو تو اس قسم کی دینی منفعت بھی مہر بن سکتی ہے۔ مال ہونا کوئی ضروری نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3343]

Sunan an-Nasa'i Hadith 3343 in Urdu