سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. باب : الظهار
باب: ظہار کا بیان۔
حدیث نمبر: 3490
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ , عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَسِعَ سَمْعُهُ الْأَصْوَاتَ، لَقَدْ جَاءَتْ خَوْلَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَشْكُو زَوْجَهَا، فَكَانَ يَخْفَى عَلَيَّ كَلَامُهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا سورة المجادلة آية 1".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے سزاوار ہیں جو ہر آواز سنتا ہے، خولہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اپنے شوہر کی شکایت کرنے لگیں (کہ انہوں نے ان سے ظہار کر لیا ہے) ان کی باتیں مجھے سنائی نہ پڑ رہی تھیں، تو اللہ عزوجل نے «قد سمع اللہ قول التي تجادلك في زوجها وتشتكي إلى اللہ واللہ يسمع تحاوركما» اتاری (جس سے ہم سبھی کو معلوم ہو گیا کہ کیا باتیں ہو رہی تھیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3490]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ تعریف اس اللہ کی ہے جس کی سماعت نے تمام آوازوں کو گھیر رکھا ہے۔ حضرت خولہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے خاوند کی شکایت کرنے آئیں (اور وہ اس قدر آہستہ بول رہی تھیں کہ) ان کی سب باتیں میں بھی نہیں سن رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے وحی اتار دی: ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا﴾ [سورة المجادلة: 1] ”اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سن لی جو تم سے اپنے خاوند کے بارے میں بحث کر رہی تھی اور وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی شکایت کر رہی تھی، اور اللہ تعالیٰ تم دونوں کی باتیں سن رہا تھا...۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3490]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التوحید 9 (7385) (تعلیقاً)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 13 (188)، الطلاق 25 (2063)، (تحفة الأشراف: 16332)، مسند احمد (6/46) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یقیناً اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سنی جو تجھ سے اپنے شوہر کے بارے میں تکرار کر رہی تھی اور اللہ کے آگے شکایت کر رہی تھی، اللہ تعالیٰ تم دونوں کے سوال و جواب سن رہا تھا، بیشک اللہ تعالیٰ سننے دیکھنے والا ہے (المجادلہ: ۱)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3490 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3490
اردو حاشہ:
حضرت خولہؓ کے خاوند نے بھی ان کو ماں سے تشبیہ دے کر حرام کر لیا تھا۔ انہو ں نے سجھا کہ شاید میں خاوند پر حرام ہوچکی ہوں۔ ظاہر ایسی صورت میں ازدواجی زندگی ختم ہوجاتی ہے۔ بچے الگ ذلیل ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کمال مہربانی سے صرف کفارہ لاگوفرمایا۔ بیوی کو حرام نہیں کیا۔ والحمد للہ علی ذالك۔
حضرت خولہؓ کے خاوند نے بھی ان کو ماں سے تشبیہ دے کر حرام کر لیا تھا۔ انہو ں نے سجھا کہ شاید میں خاوند پر حرام ہوچکی ہوں۔ ظاہر ایسی صورت میں ازدواجی زندگی ختم ہوجاتی ہے۔ بچے الگ ذلیل ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کمال مہربانی سے صرف کفارہ لاگوفرمایا۔ بیوی کو حرام نہیں کیا۔ والحمد للہ علی ذالك۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3490]
Sunan an-Nasa'i Hadith 3490 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق