🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. باب : كيف اللعان
باب: لعان کس طرح کیا جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3499
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ حُسَيْنٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ لِعَانٍ كَانَ فِي الْإِسْلَامِ: أَنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ شَرِيكَ بْنَ السَّحْمَاءِ بِامْرَأَتِهِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْبَعَةَ شُهَدَاءَ، وَإِلَّا فَحَدٌّ فِي ظَهْرِكَ يُرَدِّدُ ذَلِكَ عَلَيْهِ مِرَارًا، فَقَالَ لَهُ هِلَالٌ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَعْلَمُ أَنِّي صَادِقٌ، وَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكَ مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي مِنَ الْجَلْدِ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ آيَةُ اللِّعَانِ: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ سورة النور آية 6 , إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَدَعَا هِلَالًا، فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ، وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ، ثُمَّ دُعِيَتِ الْمَرْأَةُ فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ، فَلَمَّا أَنْ كَانَ فِي الرَّابِعَةِ أَوِ الْخَامِسَةِ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَقِّفُوهَا، فَإِنَّهَا مُوجِبَةٌ، فَتَلَكَّأَتْ حَتَّى مَا شَكَكْنَا أَنَّهَا سَتَعْتَرِفُ، ثُمَّ قَالَتْ: لَا أَفْضَحُ قَوْمِي سَائِرَ الْيَوْمِ، فَمَضَتْ عَلَى الْيَمِينِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: انْظُرُوهَا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَبْيَضَ سَبِطًا قَضِيءَ الْعَيْنَيْنِ فَهُوَ لِهِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ آدَمَ جَعْدًا رَبْعًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ السَّحْمَاءِ، فَجَاءَتْ بِهِ آدَمَ جَعْدًا رَبْعًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْلَا مَا سَبَقَ فِيهَا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ"، قَالَ الشَّيْخُ: وَالْقَضِيءُ: طَوِيلُ شَعْرِ الْعَيْنَيْنِ، لَيْسَ بِمَفْتُوحِ الْعَيْنِ، وَلَا جَاحِظِهِمَا، وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اسلام میں سب سے پہلا لعان ہلال بن امیہ کا اس طرح ہوا کہ انہوں نے شریک بن سمحاء پر اپنی بیوی کے ساتھ بدکاری کا الزام لگایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو اس بات کی خبر دی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: چار گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد جاری ہو گی (کوڑے پڑیں گے) آپ نے یہ بات بارہا کہی، ہلال نے آپ سے کہا: قسم اللہ کی، اللہ کے رسول! اللہ عزوجل بخوبی جانتا ہے کہ میں سچا ہوں اور (مجھے یقین ہے) اللہ بزرگ و برتر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی ایسا حکم ضرور نازل فرمائے گا جو میری پیٹھ کو کوڑے کھانے سے بچا دے گا، ہم سب یہی باتیں آپس میں کر ہی رہے تھے کہ آپ پر لعان کی آیت: «والذين يرمون أزواجهم» ۔ آخر تک نازل ہوئی ۱؎ آیت نازل ہونے کے بعد آپ نے ہلال کو بلایا، انہوں نے اللہ کا نام لے کر (یعنی قسم کھا کر) چار گواہیاں دیں کہ وہ سچے لوگوں میں سے ہیں اور پانچویں بار انہوں نے کہا کہ ان پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹے لوگوں میں سے ہوں، پھر عورت بلائی گئی اور اس نے بھی چار بار اللہ کا نام لے کر (قسم کھا کر) چار گواہیاں دیں کہ وہ (شوہر) جھوٹوں میں سے ہے (راوی کو شک ہو گیا) چوتھی بار یا پانچویں بار قسم کھانے کا جب موقع آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ذرا) اسے روکے رکھو (آخری قسم کھانے سے پہلے اسے خوب سوچ سمجھ لینے دو ہو سکتا ہے وہ سچائی کا اعتراف کر لے) کیونکہ یہ گواہی (اللہ کی لعنت و غضب کو) واجب و لازم کر دے گی، وہ رکی اور ہچکائی تو ہم نے شک کیا (سمجھا) کہ (شاید) وہ اعتراف گناہ کر لے گی، مگر وہ بولی: میں اپنی قوم کو ہمیشہ کے لیے شرمندہ، رسوا و ذلیل نہیں کر سکتی، یہ کہہ کر (آخری) قسم بھی کھا گئی۔ (اس کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے دیکھتے رہو اگر وہ سفید (گورا) لٹکے ہوئے بالوں اور خراب آنکھوں والا بچہ جنے تو (سمجھو کہ) وہ ہلال بن امیہ کا لڑکا ہے اور اگر وہ بچہ گندم گوں، پیچیدہ الجھے ہوئے بالوں والا، میانہ قد کا اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنے تو (سمجھو) وہ شریک بن سحماء کا ہے۔ تو اس عورت نے گندمی رنگ کا گھونگھریالے بالوں والا، درمیانی سائز کا، پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنا، (اس کے جننے کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس معاملے میں اللہ کا فیصلہ نہ آ چکا ہوتا تو میرا اور اس کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ (یعنی میں اس پر حد قائم کر کے رہتا)۔ واللہ اعلم [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3499]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اسلام میں سب سے پہلا لعان یوں ہوا کہ حضرت ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ زنا کا الزام لگایا، چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو پوری بات بتائی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: چار گواہ لاؤ ورنہ تیری پشت پر حد لگے گی۔ یہ بات آپ اسے بار بار فرما رہے تھے۔ حضرت ہلال رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں یقیناً سچا ہوں اور اللہ تعالیٰ یقیناً آپ پر وحی نازل فرمائے گا جو میری پشت کو حد سے بچا لے گی۔ ابھی وہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لعان کی آیت اترنے لگی: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُن لَّهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنفُسُهُمْ﴾ [سورة النور: 6] اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں...۔ آپ نے ہلال کو بلایا۔ انہوں نے چار قسمیں کھائیں کہ میں یقیناً (اس الزام میں) سچا ہوں اور پانچویں قسم یہ کھائی کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔ پھر عورت کو بلایا گیا۔ اس نے بھی اللہ تعالیٰ کے نام کی چار قسمیں کھائیں کہ یہ یقیناً جھوٹا ہے۔ جب چوتھی یا پانچویں قسم ہونے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے روک لو کیونکہ یہ (قسم جہنم) کو واجب کر دے گی۔ وہ ایک دفعہ تو رکی حتیٰ کہ ہمیں ذرہ بھر شک نہ رہا کہ وہ گناہ کا اعتراف کرے گی، لیکن پھر وہ کہنے لگی: میں رہتی دنیا تک اپنی قوم کو رسوا نہیں کروں گی۔ آخر اس نے قسم کھا لی۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دھیان رکھنا اگر تو اس نے سفید رنگ کا، سیدھے بالوں والا اور خراب آنکھوں والا بچہ جنا، پھر تو وہ ہلال بن امیہ ہی کا ہوگا اور اگر اس نے گندمی رنگ کا، گھنگرالے بالوں والا، درمیانے قد کا اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنا تو وہ شریک بن سحماء کا ہوگا۔ اس عورت نے بعد میں گندمی رنگ کا، گھنگرالے بالوں والا، درمیانے قد کا اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ کی کتاب میں حکم لکھا نہ جا چکا ہوتا تو دنیا دیکھتی، میں اس سے کیا سلوک کرتا۔ شیخ (امام نسائی) بیان کرتے ہیں کہ خراب آنکھوں والے سے مراد یہ ہے کہ آنکھوں کے بال لمبے ہوں، آنکھیں پوری کھلتی نہ ہوں اور نہ وہ موٹی ہوں۔ «وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ» اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ زیادہ بہتر جاننے والا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3499]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي وانظر ماقبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جو لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں اور ان کا کوئی گواہ بجز خود ان کی ذات کے نہ ہو تو ایسے لوگوں سے ہر ایک کا ثبوت یہ ہے کہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ وہ سچوں میں سے ہیں (النور: ۶)۔ اس سے معلوم ہوا کہ آیت لعان ہلال رضی الله عنہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کے وقت نازل ہوئی جب کہ عاصم رضی الله عنہ کی حدیث رقم (۳۴۹۶) میں ہے کہ یہ آیت عویمر رضی الله عنہ کے سلسلہ میں نازل ہوئی ہے۔ تطبیق کی صورت یہ ہے کہ یہ واقعہ سب سے پہلے ہلال کے ساتھ پیش آیا پھر اس کے بعد عویمر بھی اس سے دو چار ہوئے پس یہ آیت ایک ساتھ دونوں سے متعلق نازل ہوئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر
Newمحمد بن سيرين الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله
Newهشام بن حسان الأزدي ← محمد بن سيرين الأنصاري
ثقة حافظ
👤←👥مخلد بن الحسين المصيصي، أبو محمد
Newمخلد بن الحسين المصيصي ← هشام بن حسان الأزدي
ثقة
👤←👥عمران بن أبي جميل الدمشقي، أبو عمرو، أبو عمر
Newعمران بن أبي جميل الدمشقي ← مخلد بن الحسين المصيصي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3499 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3499
اردو حاشہ:
(1) حد لگے گی کیونکہ عام افراد کے لیے یہی حکم ہے کہ اگر چار گواہ پیش نہ کیے جاسکیں تو الزام لگانے والے کو قذف کی حد اسی (80) کوڑے لگائے جائیں گے۔ خاوندوں کا خصوصی حکم ابھی نہیں اترا تھا۔
(2) پانچویں قسم عورت کی پانچویں قسم اس طرح ہوگی کہ اگر یہ (میرا خاوند) سچا ہو تو مجھ پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہو۔
(3) لکھا نہ جا چکا ہوتا کہ قسمیں کھانے کے بعد کسی کو کچھ نہیں کہا جائے گا‘ خواہ ان میں سے کسی ایک کا جھوٹ صراحتاً ہوجائے جبکہ گواہ نہ ہوں۔
(4) میاں بیوی کے علاوہ کسی اور میں لعان نہیں ہوسکتا کیونکہ نص خاص ان کے بارے میں ہے۔
(5) جج ظاہری دلائل اور شہادتوں کے مطابق فیصلہ کرے گا۔ اصل حقیقت اللہ بہتر جانتا ہے۔ وہ ایسے معاملات سے خود نمٹے گا۔
(6) لعان قاضی یا جج کی موجودگی میں ہوگا اور اس وقت لوگوں کا ایک مجمع بھی ہو۔
(7) لعان مدخول بہا اور غیر مدخول بہا دونوں کے ساتھ ہوسکتا ہے۔ ابن منذر رحمہ اللہ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3499]

Sunan an-Nasa'i Hadith 3499 in Urdu