سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. بَابُ : التَّغْلِيظِ فِي الاِنْتِفَاءِ مِنَ الْوَلَدِ
باب: لڑکے کا انکار کرنے پر وارد وعید اور شناعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3511
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ شُعَيْبٌ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ نَزَلَتْ آيَةُ الْمُلَاعَنَةِ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَدْخَلَتْ عَلَى قَوْمٍ رَجُلًا لَيْسَ مِنْهُمْ، فَلَيْسَتْ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ، وَلَا يُدْخِلُهَا اللَّهُ جَنَّتَهُ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ جَحَدَ وَلَدَهُ وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، احْتَجَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ، وَفَضَحَهُ عَلَى رُءُوسِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب لعان کی آیت نازل ہوئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو عورت کسی قوم (خاندان و قبیلے) میں ایسے شخص کو داخل و شامل کر دے جو اس قوم (خاندان و قبیلے) کا نہ ہو (یعنی زنا و بدکاری کرے) تو کسی چیز میں بھی اسے اللہ تعالیٰ کا تحفظ و تعاون حاصل نہ ہو گا اور اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل نہ کرے گا اور (ایسے ہی) جو شخص اپنے بیٹے کا (کسی بھی سبب سے) انکار کر دے اور دیکھ رہا (اور سمجھ بوجھ رہا) ہو (کہ وہ بیٹا اسی کا ہے) تو اللہ تعالیٰ اس سے پردہ کر لے گا ۱؎ اور اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اگلے و پچھلے سبھی لوگوں کے سامنے ذلیل و رسوا کرے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3511]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت فرماتے سنا جس وقت لعان کی آیت اتری تھی: ”جو عورت کسی قوم میں ایسے بچے کو داخل کر دے جو ان میں سے نہیں تو اس کا اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں، اور اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل نہیں فرمائے گا، اور جو آدمی اپنے بچے کا (ضد سے یا شک و شبہ سے) انکار کر دے جب کہ بچہ اسے (پیار سے) دیکھ رہا ہو، اللہ تعالیٰ اس سے منہ موڑ لے گا اور قیامت کے دن اسے اگلے پچھلے سب لوگوں کے سامنے ذلیل فرمائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3511]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطلاق 29 (2263)، (تحفة الأشراف: 12972)، سنن الدارمی/النکاح 42 (2284) (ضعیف) (اس کے راوی ’’عبداللہ بن یونس‘‘ مجہول ہیں)»
وضاحت: ۱؎: یعنی قیامت کے دن وہ اللہ تعالیٰ کے دیدار سے محروم رہے گا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
3511
| أيما امرأة أدخلت على قوم رجلا ليس منهم فليست من الله في شيء ولا يدخلها الله جنته أيما رجل جحد ولده وهو ينظر إليه احتجب الله منه وفضحه على رءوس الأولين والآخرين يوم القيامة |
سنن أبي داود |
2263
| أيما امرأة أدخلت على قوم من ليس منهم فليست من الله في شيء ولن يدخلها الله جنته أيما رجل جحد ولده وهو ينظر إليه احتجب الله منه وفضحه على رءوس الأولين والآخرين |
سنن ابن ماجه |
2743
| أيما امرأة ألحقت بقوم من ليس منهم فليست من الله في شيء ولن يدخلها جنته أيما رجل أنكر ولده وقد عرفه احتجب الله منه يوم القيامة وفضحه على رءوس الأشهاد |
بلوغ المرام |
942
| أيما امرأة أدخلت على قوم من ليس منهم فليست من الله في شيء ولم يدخلها الله جنته وأيما رجل جحد ولده وهو ينظر إليه احتجب الله عنه وفضحه على رؤوس الأولين والآخرين |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3511 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3511
اردو حاشہ:
(1) ”جو ان میں سے نہیں“ یعنی وہ زنا کا نتیجہ ہے مگر منسوب خاوند کی طرف ہی کرے۔
(2) ”اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں“ مبالغہ ہے۔ ظاہر الفاظ مقصود نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ بہت بڑا گناہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی رحمت سے محرومی کا سبب بن سکتا ہے۔ یا آئندہ آنے والا جملہ ”اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل نہیں فرمائے گا۔“ اس کی تفسیر ہے۔
(3) ”جب کہ وہ بچہ اسے دیکھ رہا ہو‘ یہ ترجمہ بھی ہوسکتا ہے: ”جبکہ وہ آدمی بچے کو دیکھ رہا ہو کہ واقعتا میرا ہے۔“ واللہ أعلم
(1) ”جو ان میں سے نہیں“ یعنی وہ زنا کا نتیجہ ہے مگر منسوب خاوند کی طرف ہی کرے۔
(2) ”اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں“ مبالغہ ہے۔ ظاہر الفاظ مقصود نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ بہت بڑا گناہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی رحمت سے محرومی کا سبب بن سکتا ہے۔ یا آئندہ آنے والا جملہ ”اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل نہیں فرمائے گا۔“ اس کی تفسیر ہے۔
(3) ”جب کہ وہ بچہ اسے دیکھ رہا ہو‘ یہ ترجمہ بھی ہوسکتا ہے: ”جبکہ وہ آدمی بچے کو دیکھ رہا ہو کہ واقعتا میرا ہے۔“ واللہ أعلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3511]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2263
بچے کے نسب سے انکار پر وارد وعید کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس وقت آیت لعان نازل ہوئی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس عورت نے کسی قوم میں ایسے فرد کو شامل کر دیا جو حقیقت میں اس قوم کا فرد نہیں ہے، تو وہ اللہ کی رحمت سے دور رہے گی، اسے اللہ تعالیٰ جنت میں ہرگز داخل نہ کرے گا، اسی طرح جس شخص نے اپنے بچے کا انکار کیا حالانکہ اسے معلوم ہے کہ وہ اس کا بچہ ہے، اسے اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب نہ ہو گا، اور وہ اگلی پچھلی ساری مخلوق کے سامنے اسے رسوا کرے گا ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2263]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس وقت آیت لعان نازل ہوئی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس عورت نے کسی قوم میں ایسے فرد کو شامل کر دیا جو حقیقت میں اس قوم کا فرد نہیں ہے، تو وہ اللہ کی رحمت سے دور رہے گی، اسے اللہ تعالیٰ جنت میں ہرگز داخل نہ کرے گا، اسی طرح جس شخص نے اپنے بچے کا انکار کیا حالانکہ اسے معلوم ہے کہ وہ اس کا بچہ ہے، اسے اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب نہ ہو گا، اور وہ اگلی پچھلی ساری مخلوق کے سامنے اسے رسوا کرے گا ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2263]
فوائد ومسائل:
کوئی عورت کہیں بدکاری کرے اور حاملہ ہو جائے اور پھر بچے کو شوہر اور اس کی قوم سے ملادے یا کوئی باپ بلاوجہ معقول ومشروع بچے سے انکار کردے تو یہ انتہائی مکروہ اور غلیظ کام ہے۔
اور یہ دونوں عمل کبائر میں سے ہیں۔
کوئی عورت کہیں بدکاری کرے اور حاملہ ہو جائے اور پھر بچے کو شوہر اور اس کی قوم سے ملادے یا کوئی باپ بلاوجہ معقول ومشروع بچے سے انکار کردے تو یہ انتہائی مکروہ اور غلیظ کام ہے۔
اور یہ دونوں عمل کبائر میں سے ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2263]
Sunan an-Nasa'i Hadith 3511 in Urdu
سعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي